کورونا ویکسینیشن اور نئے کلینیکل ٹرائلز

279

میری لینڈ: امریکا کے قومی ادارہٴ صحت (این آئی ایچ) نے کورونا سے بہتر تحفظ کےلیے ایک کی جگہ دو ویکسینز لگانے کے طبّی تجربات شروع کردیئے ہیں۔

بین ا لاقوامی میڈیا کے مطابق  این آئی ایچ کی جانب سے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ  دو کورونا ویکسینز کے استعمال کی طبّی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) میں 150 رضاکار رجسٹر کیے جائیں گے۔

این آئی ایچ کے مطابق  ان میں سے نصف افراد وہ ہوں گے جو پہلے ہی امریکا کی تین منظور شدہ کورونا ویکسینز میں سے کسی بھی ایک کی مکمل خوراک لے چکے ہیں جبکہ انہیں 18 سے 55 سال اور 55 سال سے زیادہ عمر والے دو گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

دوسری ویکسین لگوانے کے 12 سے 20 ہفتے میں ان تمام رضاکاروں کو موڈرنا ویکسین کی ایک اور خوراک لگائی جائے گی جبکہ آزمائش میں شریک باقی کے نصف افراد وہ ہوں گے جنہوں نے اب تک کورونا وائرس کی کوئی ویکسین نہیں لگوائی ہے۔

رضاکاروں کو بھی 18 سے 55 سال اور 55 سال سے زیادہ عمر والے دو گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا، تاہم انہیں دو کورونا ویکسینز ایک ساتھ لگائی جائیں گی۔

خیال رہے  بیماری سے بہتر تحفظ کےلیے دو ویکسینز ایک ساتھ ملانے کا تصور کوئی نیا نہیں بلکہ مختلف ویکسینز کے معاملے میں ایسا ہوتا رہا ہے۔

دوسری جانب  برطانیہ، اسپین اور روس سمیت کئی یورپی ممالک میں بھی دو کورونا ویکسینز ایک ساتھ دینے کی طبّی آزمائشیں یا تو شروع ہوچکی ہیں یا پھر شروع ہونے والی ہے جبکہ امریکا میں دو کورونا ویکسینز کی آزمائشیں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

واضح رہے این آئی ایچ کی پریس ریلیز سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکا میں ہونے والی ان طبّی آزمائشوں کے اوّلین نتائج آئندہ دو سے تین ماہ میں عوام کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے۔