نمیبیا کے عوام نے نسل کشی پر جرمنی کی معافی ٹھکرادی

112
برلن: جرمنی کی جانب سے نمیبیا میں قتل عام کا اعتراف کرنے پر احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے

ونڈ ہوک (انٹرنیشنل ڈیسک) نمیبیا کی مقامی تنظیم نے جرمنی کی جانب سے نسل کشی کے اعتراف اور متاثرین کے لیے مالی امداد کی پیش کش کو ٹھکرادیا۔ ہیریرو اور ناما افراد کی نمایندگی کرنے والی تنظیم اور قبائلی رہنماؤں نے جرمنی کی طرف سے مجوزہ پیش کش کو مسترد کردیا ، جس میں جرمنی نے تسلیم کیا تھا کہ نو آبادیاتی قبضے کے دوران قتل کے واقعات نسل کشی کے مترادف تھے اور اس کے لیے زرتلافی کے طورپر 1.34ارب ڈالر کی مالی امداد دینے کی پیش کش کی گئی تھی۔ قبائلی سرداروں کی کونسل نے اپنے بیان میں رقم کو توہین اونا قابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے نمیبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر از سرنو بات چیت کرے ، کیوں کہ رقم کا زرتلافی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری جانب فریقین کے درمیان اہم مذاکرات کار زیڈ نجیویرو کا کہنا ہے کہ قبائلی کونسل بات چیت کے تمام مراحل میں شامل رہی تھی۔نمیبیا کی حکومت کو اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ قبائلی رہنماؤں کے بیانات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ 5برس سے زیادہ عرصے تک چلنے والی بات چیت کے بعد جرمنی موجودہ حالات کے پس منظر میں نو آبادتی دور میں ہونے والے واقعات کو سرکاری طور پرنسل کشی تسلیم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھاجرمنی کی تاریخی اور اخلاقی ذمے داری کی روشنی میں ہم نمیبیا اور متاثرین کے ورثا سے معافی کی درخواست کریں گے۔ ہائیکو ماس نے بتایا تھا کہ 1.34 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا جائے گا اور متاثرہ برادریاں یہ فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی کہ اس رقم کا استعمال کس طرح کیا جائے۔