یورپی سرحدوں پر مہاجرین کو روکنے کا نیا تجربہ

123
یونان ترکی سرحد: تارکین وطن کو پکڑنے کے لیے پولیس جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ نگرانی کررہی ہے

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) یونانی حکام نے ترکی اور یونان کے راستے یورپی یونین کی علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے تجربات شروع کردیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق کورونا وبا کے دوران یونانی سرحدی فوج نے کئی ایسی نئی ڈیجیٹل رکاوٹوں کا تجربہ کیاہے،جن کی مدد سے مہاجرین کو سرحدوں سے دور رکھا جاسکے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا کی عالمی وبا میں بہتری کے آثار کے سبب مسافروں کا یورپ میں آمد و رفت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے، تاہم یورپی ممالک کی طرف سے تارکین وطن کو یورپ کا رخ کرنے سے باز رہنے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ یونان اور ترکی کی سرحدوں پر مہاجرین اور تارکین وطن کا سیلاب کئی برس کے دوران بڑھتا دکھائی رہا ہے، جس کے سد باب کے لیے یونان کی سرحدی پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے انہیں روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق یونان کی سرحد کی پولیس مہاجرین کو بھگانے کے لیے واٹر کیننن کا استعمال کر تی ہے۔ یونان کی تقریباً 200 کلو میٹر طویل سرحد ترکی سے ملتی ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران سرحدی گزرگاہ پر مہاجرین کا ہجوم قدرے کم رہا اور اس وقت کا استعمال کرتے ہوئے یونانی پولیس نے ترک سرحد کی طرف جانے والی گزرگاہ پر ایک بکتر بند ٹرک پر ایک طویل رینج والا صوتی آلہ نصب کیا۔ یہ صوتی آلہ دیکھنے میں ایک چھوٹے ٹیلی وژن کے سائز کا ہے، تاہم اس کی آواز کسی طیارے کے انجن جتنی ہوتی ہے۔ یہ اور ایسے دیگر آلات استعمال کیے جا رہے ہیں،جن کا مقصد یورپی یونین کی سرحدوں میں داخلے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو باز رکھنا ہے۔ اسی طرح ایک ایک نئی فولادی دیواربھی کھڑی کر دی گئی ہے، تاکہ دریائے ایوروس سے داخلے کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔