اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اسرائیل کی تعریف کرنے پر معافی مانگ لی

310

فلسطین مہاجرین کے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ایک عہدیدار نے اپنے بیان سے معذرت کرلی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ “نفاست” اور “باریک بینی سے بنائے گئے منصوبے کا مظہر تھا.

غزہ میں UNRWA کے ڈائریکٹر میتھیس شملے نے اسرائیلی چینل ٰ12 میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں فوجی ماہر نہیں ہوں لیکن 11 دنوں کے دوران اسرائیلی حملوں کو دیکھ کر میرا تاثر یہ ہے کہ یہ حملے بہت منصوبہ بندی سے کیے گئے اور سوائے کچھ کے شہری املاک کو اتنا نقصان بھی نہیں پہنچا۔ ان حملوں کی طاقت کو محسوس کیا جاسکتا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیلی حملوں مییں اگرچہ اہداف کا تعین درست تھا تاہم عام شہریوں کو جان کی بازی سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

شملے کے ان بیانات کی فلسطینی حقوق تنظیموں کے ساتھ ساتھ ترکی نے بھی شدید مذمت کی تھی جس کے ساتھ ہی ترک وزارت خارجہ نے ان بیانات کو “غلط اور انتہائی خطرناک قرار دیا تھا۔ جس کے بعد اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اپنے تبصروں پر معذرت کرلی ہے۔

شمالے کا کہنا ہے کہ مجھے دل سے افسوس ہے کہ اسرائیلی حملوں سے متعلق میرے تبصروں کو غلط سمجھا جارہا ہے اور اس سے اُن اقدام کی وضاحت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ بچوں کو مارنا جنگ کے اصولوں کو توڑتا ہے اور اس کی آزادانہ طور پر تفتیش کرنی چاہئے۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا: “اسرائیلی ٹی وی پر میرے حالیہ ریمارکس نے ان لوگوں کو ناراض اور تکلیف پہنچائی ہے جو ابھی ختم ہونے والی جنگ کے دوران اپنے کنبہ کے افراد اور دوستوں کو کھو چکے ہیں۔ مجھے انھیں تکلیف پہنچانے پر واقعتا افسوس ہے۔