معیشت کی بہتری کیلیے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دیے جائیں

85

فیصل آباد(جسارت نیوز)کسان بورڈکے ضلعی صدرعلی احمدگورایہ نے کہا ہے کہ ملک کی جی ڈی پی میں 3.94 فیصد ترقی ’شعبہ زراعت میں مزدوروں اور کسانوں کی بھرپورمحنت کا نتیجہ ہے۔ موجودہ مالی سال میں اہم فصلوں کی شرح نمو 4.65 فیصد رہی اور کاشتکاروں نے اپنی بھرمحنت اوراللہ تعالی کے فضل و کرم سے گندم، چاول، مکئی کی تاریخی پیداوارمیں حاصل کی جبکہ گنے کی فصل کی پیداوار دوسری سب سے زیادہ پیداوار رہی۔ گندم کی پیداوار کی شرح نمو 8.1 فیصد، چاول 13.6 فیصد، گنے کی شرح نمو 22 فیصد اور مکئی کی فصل کی شرح نمو 7.38 فیصد رہی۔انہوں نے کہاکہ حکومت کوچاہیے کہ ملکی معیشت کو بہتری کے لیے بجلی، ڈیزل ، زراعی مداخل کی قیمتوںمیں نمایاںکمی کرے اورکسانوں کو بلاسود قرضوں اورفصلوں کی قیمتوں پر سبسڈی دے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیدا وار میں اضافہ ہی ملکی معیشت کی حالت بہتر کر سکتا ہے۔ہماری حکومتیں مکمل طور پر ملکی معیشت کا سہاراآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو مانے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر زراعت کے شعبے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو پاکستان ہر قسم کے قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے۔ چین اور انڈیا میں پاکستان سے زیادہ سبسڈی کسانوں کو دی جاتی ہے۔ اس لیے ان کا کاشتکاری کا شعبہ ہم سے بہتر ہے۔ چونکہ ان ممالک میں حکومت کی طرف سے مراعات ملنے کی وجہ سے فصل پر کاشت کا خرچہ کم ہوتا ہے اس لیے وہ بیرون ملک اس کو کم نرخ پر بیچ سکتا ہے لیکن پاکستان میں کسان کا فی ایکڑ فصل پر خرچہ بہت زیادہ آتا ہے۔ اسکی وجہ ٹیوب ویل یا بجلی کا فکس ریٹ نہ ہونا، مہنگی کھاد، مہنگا ڈیزل اور زرعی ٹیکس ہے۔ جن کی وجہ سے بڑے کاشت کار بھی اپنی زمینیں ٹھیکے پر دے رہے ہیں اور چھوٹا کاشت کار جو کہ چار ایکڑ سے دس ایکڑ کا مالک ہے اس کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اس وقت پانی کی کمی کے خطرناک مسئلے سے دوچار ہے۔ حکومت کی طرف سے ڈیم بنانے کی مہم شروع کی گئی ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن کسانوں کیلیے دریاؤں اور نہروں پر بجلی بنانے کے منصوبے تیار کرنے چاہئیں۔ اگر انڈیا اپنے کسانوں کیلیے بجلی پیدا کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟پاکستان کے زراعت کے شعبے کی تنزلی کی بڑی وجہ کسانوں کے پاس جدید مشینری اور اوزاروں کا نہ ہونا، معیاری سیڈ کی غیر فراہمی، ملاوٹ شدہ دوائیاں ہیں۔