عمر کوٹ ،اساتذہ اپنے حقوق کیلیے میدان میں آگئے

66

عمرکوٹ (نمائندہ جسارت) پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کی اپیل پر کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے اساتذہ اپنے حقوق کے لیے میدان میں آگئے، اساتذہ نے حکومت سندھ کی جانب سے سالانہ انکریمنٹ اوردیگر الائونسز کو رد کرکے ریکوری کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ عمرکوٹ سمیت سندھ بھر میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع سال 2001ء سے سال 2014ء تک کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے پرائمری ٹیچرز نے سالانہ انکریمنٹ اور دیگر متعلقہ الائونسز کو رد کرکے ریکوری کرنے والے حکومتی فیصلے کو رد کرتے ہوئے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ آج سندھ بھر کی طرح عمرکوٹ میں پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں ابراہیم بجیر ،علی اکبر گجو، مگھن مہر، عبداللطیف کوری اور چندن مالھی کی قیادت میں سید پور پرائمری اسکول سے پریس کلب عمرکوٹ تک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ پریس کلب کے سامنے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے استاد رہنماؤں چندن مالھی ،ابراہیم بجیر اور مگھن مہر وغیرہ کا کہنا تھا کہ اساتذہ اب اپنے حقوق کے لیے نکل پڑے ہیں۔ اساتذہ کیساتھ زیادتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، حکومت اپنا فیصلہ واپس لے ورنہ اساتذہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن عمرکوٹ کے اپنے مطالبات کے حق میں نکالی گی۔ ریلی میں گسٹا رہنماؤں رفیق کمبار، جمیل احمد نے اظہار یکجہتی کے طور پر شرکت کی۔ مظاہرے اور ریلی میں بڑی تعداد میں اساتذہ نے شرکت کی، اساتذہ نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔