موسم گرما میں قدرت کی عنایتیں

178

گرمی آدمی کے صبر کا امتحان لیتی ہے۔ موسم گرما شروع ہوتا ہے تو محاورتاً نہیں عملاً لوگوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ نے یہ کام اور آسان کردیا ہے، بجلی جانے کی دیر ہے کہ آدمی پسینے میں نہا جاتا ہے اور اس کے صبر کی آزمائش شروع ہوجاتی ہے۔ اب گھروں میں دستی پنکھے رکھنے کا رواج بھی نہیں رہا کہ بجلی کے پنکھوں نے مدت ہوئی انہیں گھروں سے رخصت کردیا ہے، ایک زمانہ تھا جب گھروں میں دستی پنکھوں کی بہت آئو بھگت ہوا کرتی تھی، عورتیں انہیں گوٹا کناری سے سجاتیں اور مہمانوں کو بڑی نزاکت سے پیش کرتی تھیں۔ ہمیں گھر کے بڑے کمرے میں چھت کا وہ پنکھا بھی یاد ہے جو لکڑی کے مستطیل فریم میں موٹی چادر لگا کر بنایا جاتا تھا اور ٹھنڈے فرش پر لیٹا ہوا کوئی بچہ یا بڑا اسے ڈوری سے کھینچتا تھا اور پورا کمرہ ٹھنڈی ہوا سے بھر جاتا تھا۔ اس ہوا سے پورا خاندان مستفید ہوتا تھا۔ بجلی آئی تو اس نے سارا کلچر بدل کر رکھ دیا۔ اب گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے تو ہم جیسے سن رسیدہ لوگوں کو پرانا زمانہ یاد آجاتا ہے۔ سچ پوچھو تو اُس زمانے میں لوگوں کے اندر قوت برداشت بھی بہت تھی وہ ہنس کھیل کر گرمی کے دن گزار دیتے تھے۔ قدرت کو معلوم ہے کہ آدمی کمزور واقع ہوا ہے وہ گرمی کی شدت برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ چناں چہ قدرت نے اس موسم میں خوش ذائقہ، میٹھے، رسیلے اور دل کو فرحت بخشنے والے پھلوں کے ڈھیر لگادیے ہیں کہ کھائو اور موسم کی تلخی کو بھول جائو۔ گرمی میں جو سب سے پہلا پھل ہمیں کھانے کو ملتا ہے وہ خربوزہ ہے۔ اِس وقت سندھ کے خربوزے پورے ملک میں راج کررہے ہیں، نہایت شیریں اور خوشبودار، خربوزے کی قاش منہ کے اندر جاتے ہی منہ میں شیرینی گھل جاتی ہے اور دل طمانیت سے بھر جاتا ہے۔ بعض خربوزے پھیکے بھی نکلتے ہیں۔ ان کی مٹھاس اور پھیکا پن جانچنے کا کوئی آلہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ بس کہا جاتا ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر پھل کاٹو تو مٹھاس خود بخود عود کرآتی ہے۔ کہتے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ یہ محاورہ ہماری سیاسی زندگی میں بھی خوب رنگ جماتا ہے بلکہ دیکھا جائے تو اس کا اطلاق ہی ہماری سیاست پر ہوتا ہے۔ خربوزے کے بعد جو دوسرا پھل گرمی دور کرنے میں شہرت رکھتا ہے وہ تربوز ہے۔ یہ ایک بڑا پھل ہے جس کا وزن تین کلو سے دس کلو تک ہوتا ہے۔ کاٹو تو اندر سے سرخ اور گودا مٹھاس سے بھرا ہوا۔ تربوز بڑی کثرت سے پاکستان میں پیدا ہوتا ہے اور موسم گرما شروع ہوتے ہی سڑک کے کنارے جگہ جگہ اس کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور لوگ بڑے شوق سے اس کی خریداری کرتے ہیں۔ مہنگائی بلاشبہ عروج پر ہے لیکن تربوز کی صحت پر اس کا اثر نہیں پڑا یہ اب بھی پچھلے برسوں کی طرح بیس پچیس روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ تربوز معدے کی جلن کو دور کرتا ہے اور آنکھوں میں طراوت پیدا کرتا ہے۔ روزہ داروں کے لیے یہ پھل ایک عظیم نعمت سے کم نہیں۔ اس کے قتلے کھاتے ہی دل میں ٹھنڈ پڑجاتی ہے۔ موسم گرما کے آغاز میں ایک اور پھل بڑی تیزی سے مارکیٹ میں آتا ہے اسے لوکاٹ کہتے ہیں، لوکاٹ میں گودا کم اور بیج زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس کا کھٹا مٹھا منفرد ذائقہ دل کو مسحور کردیتا ہے۔ لوکاٹ کی عمر زیادہ نہیں ہوتی وہ گرمی کے ابتدائی دنوں میں پک کر تیار ہوجاتا ہے اور مہینے ڈیڑھ مہینے اپنی چھپ دکھا کر یہ جا وہ جا۔ اسٹرابری اور چیری بھی گرمیوں کے پھل ہیں اور بچے انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ فالسہ بھی گرمی میں قدرت کا خاص تحفہ ہے جو زبان کو انوکھے ذائقے سے آشنا کرتا ہے۔ فالسے کا پودا اونچائی میں چار فٹ سے زیادہ بلند نہیں ہوتا۔ فالسے کے باغ میں سارا سال دھول اُڑتی رہتی ہے جب موسم گرما شروع ہوتا ہے تو اس کی دیکھ بھال پر توجہ دی جاتی ہے۔ باغ کو باقاعدگی سے پانی دیا جاتا ہے اور جب اس کی شاخوں پر مٹر کے دانے کے برابر پھل لگنے شروع ہوتے ہیں تو اس کی رکھوالی کی جاتی ہے، جب فالسہ پک کر تیار ہوجاتا ہے اور اس میں سے رس ٹپکنے لگتا ہے تو باغ کا مالک گائوں سے عورتوں اور کم سن لڑکیوں کو بلا کر فالسے کی چنائی ان کے سپرد کردیتا ہے۔ وہ فالسہ کھاتی بھی جاتی ہیں اور بڑی سی جھولی میں جمع بھی کرتی جاتی ہیں۔ باغ کے کنارے کھڑے ندیدے بچے انہیں بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر یہی فالسہ ریڑھیوں میں رکھ کر بازار میں فروخت ہوتا ہے۔ اب آپ سے کیا پردہ بچپن میں ہم بھی اُن ندیدے بچوں میں شامل تھے۔
اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی۔ پھلوں کے بادشاہ آم کی باری۔ گرمیوں میں جو چیز دل کو ڈھارس بندھاتی ہے وہ آم کی موجودگی ہے۔ آم گرمی اور برسات دو موسموں کا پھل ہے، اس کی آمد مئی میں
شروع ہوجاتی ہے اور اگست تک برقرار رہتی ہے۔ غالبؔ آم کے رسیا تھے۔ انہوں نے آم کی صرف دو خوبیاں بیان کی ہیں، ایک یہ کہ آم میٹھے اور رسیلے ہوں اور دوسری یہ کہ ڈھیر سارے ہوں۔ اب قلمی آموں کا زمانہ ہے اور آم پکنے سے پہلے درختوں سے اُتار لیے جاتے ہیں اور پیٹیوں میں بند کرکے ان پر کھولنے کی تاریخ لکھ دی جاتی ہے۔ مقررہ تاریخ پر پیٹی کھولو تو آم تیار ملتے ہیں۔ پاکستان آم کی پیداوار میں صف اوّل کے ملکوں میں شامل ہوتا ہے لیکن شاید وہ اب اپنی یہ پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے اس لیے کہ ملتان میں ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے آم کے باغات تہہ تیغ کردیے گئے ہیں اور اس زمین پر ہائوسنگ کا منصوبہ بنالیا گیا ہے۔ آم کے درختوں کے قتل عام پر اخبارات اور سوشل میڈیا پر شور تو بہت مچا لیکن اُس طاقتور ادارے کے کان پر جوں تک نہ رینگی جو ہائوسنگ منصوبے بنانے میں مشہور ہے اور بہت سی زرخیز زمینیں بھی ہڑپ کرچکا ہے۔ خیر چھوڑیے اس قصے کو آم کی بات کرتے ہیں۔ آم وہ واحد پھل ہے جو لوگ اپنے دوستوں کو تحفے میں بھیجتے ہیں۔ پاکستان میں ایک زمانے میں ’’مینگو ڈپلومیسی‘‘ کا بھی بڑا چرچا رہا لیکن یہ ڈپلومیسی بھارت کے ساتھ تعلقات میں مطلوبہ نتائج پیدا نہ کرسکی۔ آم پارٹیاں بھی ہمارے سیاسی اور سماجی کلچر کا حصہ شمار ہوتی ہیں۔ کورونا نے اگر اس کلچر کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ آم پارٹیاں اب بھی ڈھکے چھپے انداز سے ہوتی رہتی ہیں۔ بہرکیف پھلوں کے بادشاہ کی عملداری ابھی کئی ماہ تک جاری رہے گی۔ ممکن ہے پھر کوئی موقع اس کا قصیدہ پڑھنے کا نکل آئے۔