’’بزداریاں‘‘

158

سابقہ سلطنت ِ مغلیہ اور بزداری سلطنت ِ حالیہ کے دارالحکومت ’’لاہور‘‘ میں چند روز قبل ہمارے انتہائی قلبی عزیز تراویح کے بعد علاقے کے ایک ڈھابے پر چائے نوشی کر رہے تھے کہ اس دوران نفاذِ قانون کا ذمے دار، مخلص و ایماندار، معاشرے سے جرائم، دہشت ووحشت جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی مہم پر مامور چاق و چوبند دستہ ’’گنہگاروں، معاشرے کے ناسوروں، دہشت گردوں، ذخیرہ اندوزوں، حرام خوروں اور قانون ہاتھ میں لینے والے بے ضمیروں کی تلاش میں ادھر آ نکلا اور اس نے ہمارے عزیز کو ماسک نہ پہننے کے ’’سنگین جرم‘‘ میں گرفتار کیا اور لے جا کر ساری رات حوالات میں بند رکھا۔ ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔ وہاں ’’جنات کی طرح‘‘ طلب کیے بغیر میسر آجانے والے ’’انتہائی ہمدرد اور انسان دوست وکلا‘‘ نے رمضان کریم کی بابرکت ساعتوں میں 12500 روپے کے معمولی ’’محنتانے‘‘ کے عوض ان کی ضمانت پررہائی ممکن بنوائی۔
ایف آئی آر کی زبان اس قدر دل دہلا دینے والی ہے کہ انسان خود کو حقیقی مجرم سمجھنے لگتا ہے۔ ایف آئی آر پڑھ کر ہم یہ سوچ کر تھر تھر کانپنے لگے کہ محض 10روپے کا ماسک نہ پہننے کی پاداش میں درج کی جانے والی ایف آئی آر ایسی ہے تو قومی خزانے سے اربوں ڈالر لوٹ کر بیرون ملک بھیجنے کے مجرموں کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر میں درج الفاظ تو اتنے لرزہ خیز ہوتے ہوں گے کہ پڑھنے والے کے پسینے چھوٹ جائیں اور نجانے کیا کچھ خطا ہو جائے۔ بہر حال ماسک نہ پہننے یعنی ’’جرمِ بے نقابی‘‘ کے ’’مجرم‘‘ کے خلاف درج شدہ ایف آئی آر کتنی ’’ضخیم‘‘ اور کس درجے کی ’’زخیم‘‘ ہے، آپ بھی ملاحظہ فرما لیجیے:
’’میں پولیس افسر فلاں فلاں کے ساتھ بسلسلہ گشت و تلاش بد رویہ گان چیکنگ و سیکورٹی ڈیوٹی فلاں مارکیٹ موجود ہوںکہ کورونا ایس او پی کی خلاف ورزی پرچیک کیا گیا ماسک نہ تو پہنا تھا اور نہ ہی سینی ٹائزر موجود تھا جو سرکاری احکامات اور کووڈ19 کی ایس او پی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا تھا جس کو باامداد ہمرائیاںقابو کیا جس نے بعد دریافت پر اپنا نام و پتا، شاختی کارڈ نمبر فلاں فلاں بتایا مذکورہ نے حکومتی احکامات کے باوجود ماسک نہ پہن کر ارتکاب جرم دی پنجاب انفیکشن ڈیزیز اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2020 کی دفعہ 7/6کا کیا ہے لہٰذا تحریر استغاثہ ہٰذا بغرضِ اندراج مقدمہ بدست کانسٹیبل فلاں ارسال تھانہ ہے مقدمہ درج رجسٹر کر کے تفتیش حوالے شعبہ انویسٹی گیشن ونگ کی جائے۔ دستخط بحروف اردو فلاں افسر، فلاں تاریخ، بوقت 11/50بجے رات۔ از تھانہ حسب آمد تحریری استغاثہ مقدمہ درج رجسٹر کر کے اصل تحریری استغاثہ معہ نقل ایف آئی آر بغرض تفتیش۔۔ کانسٹیبل عقب انچارج انویسٹی گیشن ونگ ارسال ہے جناب ایس ایچ او صاحب مقدمہ ہٰذا سے آگاہ ہیں‘‘۔
ہم ’’بزداری‘‘ کے تحت قانون کی اتنی شدید ’’عملداری‘‘ پر صاحبانِ اختیار کو سلیوٹ کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ہمارے ’’ہیٹس آف‘‘ یعنی ’’ہیٹ ہمارے سر سے دور‘‘۔
ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک طرف ہمیں اپنے عزیز سے چائے نوشی کے دوران انجانے میں سرزد ہونے والی ’’بے ماسکی‘‘ یعنی ’’جرمِ بے نقابی‘‘ پر دی جانے والی رات بھر حوالات میں قید رہنے کی سزا اور ہیبت ناک لفظوں سے ’’داغی گئی‘‘ ایف آئی آر کاٹے جانے پر اپنی بے اختیاری، مجبوری اور لاچاری کا جتنا قلق ہے، اس سے کہیں زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ہمیں ناانصافی کے گھپ اندھیروں میں انصاف کی ایک کرن ٹمٹماتی دکھائی دینے لگی ہے۔ ہمارا دل گواہی دے رہا ہے کہ یہ ’’بزداریاں‘‘ معصوم اور بے گناہ شہریوں کی ناز برداریاں کرنے کی ذمے داریاں پوری کرنے کی تیاریاں کرچکی ہیں۔ خود ہی سوچیے کہ جب ’’بے نقاب‘‘ ہو کر چائے نوشی کرنے پر ’’حوالات میں رات گزار اور ایف آئی آر‘‘ جیسی سزائیں محض اس لیے ملنے لگی ہیں کہ ماسک نہ پہننے سے دوسرے لوگوں کو کورونا لاحق ہونے کا ’’موہوم امکان‘‘ پیدا ہوسکتا ہے تو پھر جعلی دوائیں تیار کر کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے، کیمیکل سے تیار کردہ دودھ کو خالص کہہ کر لوگوں کو امراض کا شکار کرنے، غذائی اشیا میں نامیاتی رنگوں کی جگہ غیر نامیاتی رنگ ڈال کر معصوم لوگوں کو ذیابیطس اور گردے فیل ہونے کے امراض میں مبتلا کرنے، مردہ مرغیوں اور گدھوں کا گوشت کھلا کر لوگوں کو مہلک بیماریوں کی جانب دھکیلنے، بیرون ملک سے صابن بنانے کے نام پر درآمد کیے جانیوالے ناقص تیل کو پکانے کا تیل کہہ کر مارکیٹ میں فروخت کرنے والے ’’حرام خوروں‘‘ کو کیسی سزا ملے گی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں بلکہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ’’بزداری‘‘ کے تحت انسانیت کے دشمنوں کوجو سزائیں دی جائیں گی، وہ جبر و استبداد کی دہلا دینے والی منفرد تاریخ رقم کریں گی۔
نجانے کیوں ہمیں اپنے عزیز کی ایف آئی آر کاٹے جانے کے بعد سے کافی حد تک یقین ہو چکا ہے کہ وطن عزیز میں گھنائونے جرائم کے مجرموں کو عبرت کا منفرد نشان بنانے والی دہشت ناک سزائوں کی خوفناک تاریخ لکھنے والا سفاک قلم جنبش کی تیاری کر رہا ہے مگر اس اعتماد کو ہمارے ہی ایک بہی خواہ نے یہ کہہ کر چکنا چور کر دیا کہ ابھی وہ کوکھ ہی پیدا نہیں ہوئی جس میں سزائوں کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کرنے والا ’’سفاک قلم‘‘ پرورش پا سکے۔