اللہ میاں تو کتنا اچھا ہے

202

میں: میرے ذہن میں ایک سوال بڑے عرصے سے گھوم رہا ہے؟ کہ بندے کا خدا سے تعلق کیسا اور کتنا ہونا چاہیے؟
وہ: جہاں تک کیسے کی بات ہے تو اس حوالے سے موسیٰ ؑ سے جھڑکیاں سننے والے اُس معصوم چرواہے سے اچھی مثال میری نظر سے آج تک نہیں گزری ’’اللہ میاں تو کتنا اچھا ہے، تو اگر کبھی میرے پاس آئے تو میں تیری خدمت کروں، تیری جوئیں نکالوں، تیرے سر میں تیل ڈالوں، تیرے بالوں میں کنگھی کروں‘‘ رب کی نعمتوں کی شکر گزاری کا اتنا بھولا اور سادہ انداز جس میں ریاکاری اور جھوٹ کا ذرہ برابر بھی شائبہ موجود نہیں۔
میں: لیکن اللہ تعالیٰ سے اتنی بے تکلفی، کچھ غیر مناسب سا نہیں لگتا؟ جو سارے جہان کا رب ہے، ساری کائنات میں صرف اور صرف وہ ہی کبریائی کا سزاوار ہے، اس کا احترام تو ہر حالت میں ملحوظ خاطر ہونا چاہیے۔
وہ: رب کا احترام، اس کی جناب میں سجدہ ریزی تو بندگی کے لیے لازم وملزوم ہے اور نماز اسی بندگی کی تو رپورٹ ہے جو بندے کو روزانہ کم ازکم پانچ بار لازمی دینی ہوتی ہے، رہی بات اللہ میاں سے بے تکلفی کی تو اللہ کے ساتھ میاں کے لاحقہ میں بھی اپنائیت کے معنی موجود ہیں۔ میرے خیال سے تو اللہ تعالیٰ کا بندے سے مطالبہ ہی یہ ہے کہ وہ اس سے ایک دوست اور ساتھی کا رویہ اختیار کرے۔ یہ بات تو ہم سب ہی جانتے ہیں نا کہ نماز اللہ میاں سے رازو نیاز اور گفتگو کا ذریعہ ہے، اطمینان وسکون کا گوشۂ عافیت ہے، جس کے سائے میں آنے کا موقع انسان کو دن میں کئی بار ملتا ہے، مگر افسوس کہ دن میں کئی بار ملاقات اور رازو نیاز کے باوجود خدا سے اپنائیت کا رشتہ استوار نہیں ہوپاتا۔
میں: آخر تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟
وہ: میں تو بس بندے اور خدا کے اس تعلق کی نوعیت کو واضح کرنا چاہ رہا ہوں، جس کے لیے بندے کو کس کیفیت میں ہونا ضروری ہے، اور جب بندے کا خدا سے رشتہ بندگی کا ہے تو بندے کو لامحالہ بندگی ہی کی کیفیت میں ہونا چاہیے۔
میں: بندگی کی کیفیت سے تمہاری کیا مراد ہے؟
وہ: میرے دوست بندگی کوئی وقتی احساس یا لمحاتی جوش وجذبہ نہیں ہے۔ یہ تو دل کی دھڑکن کی طرح جاری ایک مسلسل عمل ہے، اگر دل کی دھڑکن رک جائے تو زندگی ختم ہوجائے، بالکل اسی طرح انسان بندگی کی کیفیت سے باہر نکلا یعنی انسانیت کے درجے سے نیچے گرگیا۔
میں: بندگی کا انتہائی اظہار تو سجدہ ہے، تو کیا انسان کو اس کیفیت میں رہنے کے لیے ہروقت سر بسجود رہنا چاہیے؟
وہ: سجدہ تو محض ایک علامت ہے، جو انسان کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کی نہیں۔ اس کی جناب میں سجدہ ریزی کے لیے تو وہ ہزاروں لاکھوں یا شاید کروڑوں فرشتے ہی کافی ہیں جو ہمہ وقت اس کی بڑائی اور تسبیح بیان کررہے ہیں۔ اللہ کو تو وہ چرواہا پسند ہے جس نے اپنی کسی غرض کے بغیر بڑے پیار سے اپنے رب کو پکارا اور بندگی کو اپنی کسی حاجت روائی سے مشروط نہیں کیا۔ وہ اقبال نے کہا ہے نا
جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر
اصل میں انسان روزِ ازل ہی سے شکر اور بندگی کے رویے کو اپنی مراد پوری ہونے سے جوڑتا آیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ مجھے یہ یہ اور یہ چیزیں دے گا تو میں اس کے حضور سجدہ ریز ہو جائوں گا، شکرانے کے نفل پڑھوں گا۔ دوسرا طرز عمل جنت کے ان وعدوں سے جڑا ہوا ہے جو اللہ نے ہر دور میں اپنے نبی اور رسولوں کے ذریعے بندوں سے کیے ہیں۔ اصل میں بندگی کی کیفیت یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی، اپنے روز وشب کا ہر لمحہ اس چرواہے کی طرح جینا ہے جس کی خدا سے محبت بے غرض اور معصوم ہے۔ ممتاز مفتی نے اپنی کتاب ’’تلاش‘‘ میں بندگی کی اسی کیفیت کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے، لکھتے ہیں ’’اللہ میاں کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک دوست کی طرح ہر وقت ساتھ رکھو، اور جو منظر نظر آئے اس کی تعریف کرتے چلے جائو یا اللہ تو کتنا اچھا ہے تونے میرے لیے یہ ہوائیں چلائیں، دریا اور ندیاں بہائیں، آسمان سے بارش برسائی اور زمین پر سبزہ اُگایا۔ کھانا کھانے بیٹھے تو اللہ میاں کو بھی ساتھ بٹھالو، اور اس کی حمد کرتے جائو کہ اے اللہ تو کتنا اچھا ہے کہ تو مجھے انواع واقسام کے کھانے کھلاتا ہے، کرکٹ کھیلنے لگو تو اس سے کہو اللہ میاں ذرا چھکا لگوا دے، اب تجھ سے کوئی پوچھنے والا تو ہے نہیں کہ چھکا کیوں لگوایا، اپنی ذرا ٹور بن جائے گی‘‘۔ میری دانست میں تو اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کی نوعیت کچھ ایسی ہی ہونی چاہیے کہ انسان ہر لمحہ ہر لحظہ بندگی کی کیفیت ہی میں رہے اور رہی بات یہ تعلق کتنا ہونا چاہیے تو ہمارے چہار طرف پھیلی اس کائنات سے زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہونا چاہیے۔ سیدھی سی بات ہے جب اللہ تعالیٰ کی اس ارض وسما اور اس کائنات میں ہر چیز پر مکمل گرفت میں ہے اور اس کی قدرت تمام عالم پہ چھائی ہوئی ہے اور انسان ہزار کوشش کے باوجود بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتا تو پھر بندے کا اللہ میاں سے تعلق بھی اتنا ہی مضبوط اور مسلسل ہونا چاہیے اور یہی بندگی کا لازمی تقاضا بھی ہے۔