ٹنڈ والٰہیار، پنچائت کا قاتل پولیس اہلکاروں کو 28لاکھ ادا کرنے کا حکم

83

ٹنڈ والٰہیار(نمائندہ جسارت)پولیس لاک اپ میں قتل ہو نے والے بابر خانزادہ کے کیس کا معاملہ حل ہو گیا پولیس اہلکار پر غفلت کا الزام ثابت ہو نے پر 28لاکھ روپے مر حوم کے ورثا کو ایک ماہ میں ادا کر نے کا حکم اور مقتول کے ورثا کو کیس واپس لینے کی ہدایت کر دی گئی، فر یقین نے فیصلہ کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم کر تے ہو ئے ایک دوسر ے سے گلے مل گئے بڑے دعویٰ کر نے والوں کے خواب چکنا چور ہوگئے۔ ماہ رمضان کے دوران پولیس نے مین پوری کے کیس میں بابر خانزادہ کو گر فتار کر کے لاک اپ کردیا، جہاں پر پولیس تشدد کے سبب نوجوان بابر خانزادہ پولیس لاک اپ میں ہلاک ہوگیا جس کے بعد پولیس نے نوجوان کی ہلاکت کو خودکشی ظاہر کی، نوجوان کی ہلاکت کی خبر میڈیا پر شائع ہونے کے بعد مذکوررہ کیس ہائی فائل کیس کے طور پر منظر عام پر رونما ہوا جس کے بعد اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں آواز بلند کرنے کے بعد آئی جی سندھ اور گورنر سندھ کی جانب سے مذکوررہ واقعے کی انکوائری طلب کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں ڈی آئی جی حیدرآباد نے بابر خانزادہ پر داخل ہونے والی ایف آئی آر کو جعلی قرار دیا، جس کے بعد مقتول کی بہن کی فریاد پر تھانہ سیکشن اے پر دو پولیس افسران سمیت سات پولیس اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد مذکوررہ کیس میں نامزد جوابداروں کو گرفتار کرکے انہیں جیل روانہ کردیا گیا جبکہ دوسری جانب پولیس کی جانب سے 169 کی پولیس رپورٹ کی بنا پر بابر خانزادہ کی ہلاکت کو خودکشی ظاہر کرتے ہوئے تمام پولیس اہلکاروں کو عید قبل کررہا کردیا گیا، جس کے بعد مقتول کے ورثاء اور خانزادہ برادری کی جانب سے احتجاج اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس کیخلاف عدالت عظمیٰ جانے کا اعلان کیا گیا، اس صورتحال کے پیش نظر ٹنڈوالہٰیار کی دو معزز شخصیات کھوکھر برادری کے سردار سابقہ تعلقہ چیئرمین سردار حاجی خیر محمد کھوکھر اور نظامانی قوم کے معزز شخصیت حاجی رئیس امداد نظامانی نے اس ہائی فائل کیس کا فیصلہ ٹنڈو سومرو میں نظامانی فارم ہائوس پر فیصلہ رکھا گیا، جہاں بابر خانزادہ کے ورثاء کے ساتھ ساتھ خانزادہ برادی کے معززین اور کیس میں نامزد جوبداروں سمیت ان کے خاندان کے افراد اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جس میں فیصلہ کمیٹی نے دونوں فریقین کے بیانات سنے اور عینی گواہ کے بیان سنے کے بعد اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے انہیں گرفتار کرنے کی ہاں کرنے پر دونوں سربراہوں نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار کیس میں غفلت کے مرتکب پائے جانے کے سبب ثابت ہوگیا کہ پولیس اہلکار مجرم ہیں، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کیس میں نامزد سات پولیس اہلکار مقتول کے ورثاء کو 28 لاکھ روپے ادا کریں گے اور کیس کی فریادی اپنا کیس واپس لے گی، جس پر فریقین نے فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے قبول کیا اور ایک دوسرے سے گلے مل گئے۔ اس فیصلے کے بعد ان افراد کے خواب چکنا چور ہوگئے جو اس کیس کو عدالت عظمیٰ لے جانے کی باتیں کر رہے تھے۔