تعلیمی اداروں کی بندش ناقابل تلافی نقصان ہے‘سندھ پرائیویٹ تعلیمی ایسوسی ایشن

43

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدر علی اور مرکزی رہنما ڈاکٹر نجیب میمن، دوست محمد، شہاب اقبال، مرتضیٰ شاہ، محمد سلیم، توصیف شاہ، محمد ساجد، اعجاز علی، شکیل سومرو، اشفاق بیگ اور دیگر سربراہان نے نرسری تا12ویں جماعت کی طویل بندش اور سندھ میں تعلیمی بورڈ کے مالی بحران کو دوسرے تعلیمی سال کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم، این سی او سی اور وزرائے تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ
تعلیمی سال کے آخری2 ماہ کے لیے امتحانات، داخلوں، گرمیوں کی تعطیلات اور نئے تعلیمی سال کا شیڈول جلدجاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 14ماہ سے وزیر اعظم اور وزارت تعلیم کے وعدوں کے باوجود کوئی ٹھوس اقدامات کیے اور نہ ہی شعبہ تعلیم سے منسلک کاروبار کے لیے کسی قسم کا ریلیف پیکیج دیا۔ان کا کہنا تھا کہ 90 فیصد والدین اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسزکے لیے سہولیات نہیں رکھتے۔5 کروڑ سے زائد طلبہ وطالبات کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے جوکسی بہت بڑے قومی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت تعلیم کو قوم کی زندگی اور موت کا معاملہ سمجھتے ہوئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے۔