کندھ کوٹ ‘ قبائلی تصادم میں ہلاکتوں پر جماعت اسلامی کااظہارافسوس

51

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ نے کندھکوٹ کے قریب کچے کے علاقے میں چاچڑ اور جاگیرانی قبائل کے درمیان معمولی تنازع پر9 سے زائد قیمتی جانی و املاک کے نقصان پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبائلی تصادم کے خاتمے اور صوبے میں قیام امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی جنرل سیکرٹری کاشف شیخ اور نائب امرا
پروفیسر نظام الدین میمن، عبدالغفار عمر، ممتاز سہتو، حافظ نصراللہ عزیز اور اظہارالحق نے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ذمے داری ہے مگرخونی قبائلی تصادم اور درجنوں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں سے محسوس ہو رہا ہے کہ سندھ حکومت ناکام اور عملی طور پر عوام کو ڈاکوں اور جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ کشمور، شکارپور، گھوٹکی اور سکھر سمیت کئی اضلاع میں معمولی تنازع پر قبائلوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں ابتک سیکڑوں جانوں و املاک کا نقصان ہو چکا ہے۔ ماسک نہ پہننے پرعوام کو ڈنڈے برسانے اور رشوت کا بازار گرم کرنے والی پولیس قبائلی تصادم کو روکنے میں ناکام، خاموش تماشائی اور مقامی سرداروں اور وڈیروں کی کمداربنی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی سندھ نے زور دیا کہ حکومت مغویوں کی بازیابی، قبائلی تصادم کے خاتمے اور قیام امن کے اقدامات کرکے اپنی ذمے داری پوری کرے۔