اسرائیلی وحشیانہ بمباری جاری ،شہداء کی تعداد 188 ہوگئی

215

غزہ/نیویارک/لندن(مانیٹرنگ ڈیسک+ آن لائن+صباح نیوز) نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری مسلسل 7ویں روز بھی جاری رہی۔ عالمی خبرایجنسی کے مطابق غزہ میں 2014ء کے بعد اتوارکوایک دن میں سب سے بدترین حملے ہوئے جہاں 8بچوں اور خواتین سمیت مزید44 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔جس کے بعد شہداکی تعداد بڑھ گر188 ہوگئی جن میں 47بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ سٹی پر تازہ بمباری میں 3 عمارتیں تباہ کردی گئیں ۔غزہ کی وزارت صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیل نے علی الصبح غزہ سٹی میں گھروں پر بمباری کی اور شہری گھروں کا ملبہ ہٹا کر ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی غزہ سٹی کے علاقے خان یونس میں حماس کے سیاسی و عسکری ونگ کے سربراہ یحیٰ السنور کے گھر کو نشانہ بنایا، مذکورہ رہنما کو2011ء میں اسرئیل کی جیل سے رہائی ملی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی میزائلوں نے پناہ گزینوں کے کیمپ کو بھی نشانہ بنا یا جس میں 8 بچوں سمیت 10 فلسطینی شہید ہوئے۔ قبل ازیں ایک حملے میں ایک 12 منزلہ الجلا نامی رہائشی عمارت کو مسمار کردیا گیا تھا جہاں الجزیرہ، امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پرین (اے پی) سمیت میڈیا کے دیگر اداروں کے دفاتر موجود تھے، عمارت کے مالک کو پیشگی حملے کے اطلاع دینے کے بعد تباہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب الجلا عمارت کی تباہی کے ردِ عمل میں حماس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 120راکٹ داغ دیے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے حملوں میںاسرائیل کے اندر 2 بچوں سمیت مزید10 یہودیہلاک ہوگئے۔ مغربی کنارے میں بھی ہلاکت خیز جھڑپیں جاری ہیں جس میں اسرائیلی فوجیوں کے حملوں میں 12 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حملے پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں اور اس میں مزید وقت لگے گا، اسرائیل چاہتا ہے کہ غزہ کی حکمران جماعت حماس کو بھارتی قیمت چکانی پڑے، جب تک ضرورت ہے حملے جاری رکھیں گے۔علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اور عالمی مصالحت کار جنگ بندی کروانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کے سیشن سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی کو فورا بند ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جاری لڑائی پورے خطے کو ناقابل کنٹرول بحران میں مبتلا کر سکتی ہے، یہ ناقابل کنٹرول سیکورٹی اور انسانی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبر دارکرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی نہ صرف مقبوضہ فلسطین اور اسرائیل میں بلکہ پورے خطے میں بھی تشدد کو بڑھاوا دینے کا سبب بن سکتی ہے۔ادھر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کی جانب سے خون ریزی کے خاتمے کی اپیل کی گئی ہے اور ویٹیکن میں اتوار کو عبادت کے بعد انہوں نے کہا کہ کیا ہم واقعی سمجھتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو تباہ کر کے امن بحال کر سکتے ہیں؟انہوں نے معصوم جانوں کے ضیاع کو ’خوفناک اور ناقابل قبول‘ اقدام قرار دیتے ہوئے ذمے دار افراد سے ’اسلحے کا شور‘ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔مزید برآں فلسطین پر اسرائیلی درندگی کے خلاف دنیا سراپا احتجاج بن گئی۔ امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، عراق، ترکی اور ارجنٹائن سمیت متعدد ممالک کے امن پسند لوگ اسرائیلی درندگی کے خلاف ہم آواز ہوگئے۔ شہر شہر احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں۔ اسرائیلی بے حسی کی شدید مذمت جب کہ نہتے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔امریکا کی سب سے بڑی کاونٹی لانگ آئی لینڈ میں سب سے بڑا مظاہرہ ہوا۔ مختلف مذاہب اور کمیونٹیز کے سیکڑوں افراد نے اسرائیل مخالف مظاہرے میں حصہ لیا اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کی۔برطانوی دارالحکومت لندن سمیت کئی شہروں میں احتجاج ہوا۔ لندن میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی۔ برمنگھم ، ڈنڈی، ناٹنگھم اور دیگر شہروں میں بھی بھرپور احتجاج کیا گیا۔جرمن شہروں فرینکفرٹ، میونخ اور سٹڈ گارڈ میں لوگ انسانیت کے نام پر انسان دشمن فلسطین کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ آسٹریلوی شہر سڈنی میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔اسرائیلی سرحد پر مظاہرے کے دوران لبنانی شہری شہید ہوگیا۔ بنگلا دیش میں ہزاروں افراد نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ لبنان ، ارجنٹائن، ترکی اور کینیا کے باسی بھی اسرائیلی مظالم پر چپ نہ رہے۔ شرکاء نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔جرمن شہر برلن میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کیا، لوگوں نے بائیکاٹ اسرائیل کے نعرے بھی لگائے۔ چند یہودیوں نے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوشش کی۔لندن کے ماربل آرچ سے ہزاروں مظاہرین فلسطینی پرچم لہراتے سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین میں خواتین اور بچوں سمیت ہر عمر کے افراد موجود تھے، مظاہرین فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔دوسری جانب ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاآنی نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیااور غزہ کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ۔ایرانی میڈیا کے مطابق سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاآنی نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے گفتگو میں صیہونی دشمن کے خلاف حماس کی بے مثال اور بھرپور جوابی کارروائیوں کی تعریف کی۔سپاہ قدس کے کمانڈر نے حماس سربراہ کو اپنی جانب سے حمایت کی یقین دہانی کرائی۔لبنان سے تعلق رکھنے والی تنظیم حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے حماس کے رہنما اسامہ حمدان اور احمد عبدالہادی سے ملاقات کرکے صورتحال پر غورکیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب فلسطینی سرزمین پر ایک نیا دفاعی توازن قائم ہو رہا ہے،فلسطین کی حمایت کا دعوی کرنے والے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ بیانات اور تقریروں کے بجائے جہاد، شہادت اور عملی مدد کرے۔