دنیابھر کے صحافی اسرائیل پر برہم میڈیا دفاتر پرحملے کو جنگی جرم قرار دے دیا

132

غزہ (صباح نیوز) دنیا بھر کے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں میڈیا دفاتر کی تباہی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے صدر اور سی ای او گیری پروٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ناقابل یقین حد تک دہلا دینے والی پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم جانی نقصان سے بال بال بچے ہیں، اے پی کے درجنوں صحافی اور فری لانس عمارت کے اندر موجود تھے اور شکر ہے ہم وقت پر ان کو وہاں سے باہر نکال پائے۔ان کا کہنا تھا کہ آج جو کچھ ہوا ہے اس کی وجہ سے دنیا کو غزہ میں ہونے والے واقعات کا کم علم ہوگا’۔الجزیرہ کی پروڈیوسر لینہ الصافین نے ٹویٹر پر کہا کہ اسرائیل نے ‘ایک دھمکی’ دی تھی کہ وہ ‘الجزیرہ کے دفاتر اور غزہ سٹی میں قائم عالمی میڈیا کے دیگر چینلوں کے دفاتر پر مشتمل عمارت پر ایک گھنٹے میں بمباری کرے گا، ہمارے ساتھی پہلے ہی وہاں سے نکل گئے تھے۔تباہ شدہ عمارت میں مڈل ایسٹ آئی کا بھی دفتر تھا، جس نے ایک وڈیو میں رپورٹ کیا کہ عمارت کے مالک اسرائیلی فوج کے ایک افسر سے ٹی وی پر لائیو بات کر رہے تھے اور وہ بلڈنگ پر بم مارنے سے قبل صحافیوں کو اپنا سامان عمارت سے باہر نکالنے کی اجازت دینے کے لیے بات کر رہے تھے۔اسرائیل کی میڈیا کے دفاتر پر بمباری کے بعد امریکا قانون ساز مائیک سیگل سمیت مشہور شخصیات کی جانب سے ردعمل آیا اور اس کو ایک جنگی جرم قرار دیا۔مائیکل سیگل نے کہا کہ صحافیوں پر حملہ کرنا جنگی جرم ہے’۔صحافی ایلزبیتھ ٹسورکوو نے کہا کہ اسرائیل تاثر دیتا ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتا ہے، جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں یہ ایک جنگی جرم ہے۔اے جے پلس نے کہا کہ اسرائیل نے صحافتی اداروں کو ایک گھنٹے کا وقت دیا لیکن انہیں اپنا سامان منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا ایک جنگی جرم ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیک جرنلسٹ کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر جوئیل سیمن نے کہا کہ یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ میں انسانوں کو درپیش مسائل کی رپورٹنگ متاثر کرنے کے لیے جان بوجھ کر کیا۔برطانوی اخبارگارجین کے کالم نگار اوون جونز نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے میڈیا کے اداروں کے دفاتر پر مشتمل پر عمارت تباہ کرنے پر مذمت کی جائے۔