مشکات کی جدائی

150

چچا کے گھر طبیعت کچھ سنبھلنے کے بعد جو کوئی بھی ملاقات کے لیے آتا اس سے دیوانہ وار اسپتال میں زیر علاج تمام زخمیوں بالخصوص مشکات کے بارے میں پوچھتا ہر کوئی طفل تسلی دیکر بتاتا کہ سب کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان شاء اللہ سب جلد ٹھیک ہو جائیںگے لیکن میرا دل کم ازکم مشکات کے حوالے سے ان تسلیوں کو ماننے پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا کیونکہ اس کو آخری بار میں نے جس اذیت ناک کیفیت میں دیکھا تھا اس کی وہ حالت یاد آکر نہ صرف میری تشویش میں مسلسل اضافہ کیے جارہی تھی بلکہ مجھے رہ رہ کر مشکات کی زندگی کے وہ شب وروز بھی شدت سے یاد آرہے تھے جس کے دوران میں نے بچپن سے لیکر اب تک اسے بڑی چاہ اور محبت سے پالا پوسا تھا اور جس کے ناز و نخرے اٹھاتے ہوئے میں ہمیشہ ایک خاص سرور اور لطف محسوس کرتا تھا اور جس کا وہ موقع بہ موقع بھرپورفائدہ بھی اٹھالیتی تھی اور جس پر اس کی والدہ اکثر مجھ سے لڑ جھگڑ کر بات اپنے اس غصے کے اظہار پر ختم کرتی تھی کہ تمہارے اسی لاڈ پیار نے اسے ضدی بنادیا ہے۔ میں مشکات کی ان ہی یادوں میں گم تھا کہ ایسے میں میرے چھوٹے بھائی میجر عالمزیب ملنے آئے تو میں نے انہیں کہا کہ اگر مشکات کو یہاں مناسب ٹریٹمنٹ نہیں مل رہی تو پلیز اسے کھاریاں کینٹ کے برن سینٹر منتقل کردو چاہے اس پر جتنا بھی خرچہ آئے اللہ تعالیٰ اس کا بندوبست کردے گا لیکن اس کے علاج میں کوتاہی نہیں آنی چاہیے۔ ابھی ہمارے گفتگو جاری تھی کہ اس دوران کوئی فون لیکر آیا اور مجھے بتایا کہ تم ویسے ہی پریشان ہوتے ہو دیکھو مشکات ٹھیک ٹھاک ہے لو اس سے بات کرو اس وقت یہ میری زندگی کا قیمتی ترین لمحہ تھا جب میں مشکات کی آواز سن کر اپنے فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور زارو قطار روتے ہوئے مشکات سے اس کی خیریت اور کیفیت پوچھنے لگا وہ بھلی مانس میری حالت بھانپ کر اس تشویشناک حالت میں بھی الٹا مجھے دلاسہ دینے لگی اس نے اپنے مخصوص جذباتی انداز میں کہا کہ ابو میں تو ٹھیک ٹھاک ہوں آپ کیسے ہیں۔ اس نے مجھے کہا کہ آپ بالکل فکرنہ کریں ان شاء اللہ ہم سب جلدی ٹھیک ہو جائیں گے۔ مشکات کی یہ تسلی بھری اور ہوش و حواس پر مبنی باتیں سن کر مجھے یوں محسوس ہوا گویا وہ اتنی متاثر نہیں ہے جتنا کہ میں سمجھ رہا ہوں حالانکہ اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی کیونکہ ڈاکٹروں کے بقول جس وقت وہ مجھ سے فون پر انتہائی پرسکون اور بظاہر نارمل انداز میں بات کررہی تھی اس وقت تک اس کا 91فی صد جسم جل چکا تھا اور وہ عملاً موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھی لیکن نجانے اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی کون سی طاقت عطا کردی تھی جس کے بل بوتے پر وہ تادیر نہ صرف ہم سب اور اپنے قریب موجود افراد سے گفتگو کرتی رہی بلکہ اس کی اس کیفیت سے ہم نے اپنے طور پریہ غلط اندازہ بھی قائم کرلیا تھا کہ اس کی حالت اب شاید خطرے سے باہر ہے۔
مغرب کے وقت میجر عالمزیب نے مجھا بتایا کہ ان کی برن سینٹر کھاریاں کینٹ کے کمانڈنٹ سے بات ہوگئی ہے جنہوں نے انہیں کہا ہے کہ برن سینٹر پشاور میں جو سہولتیں دستیاب ہیں وہ کسی بھی طور کھاریاں کے برن سینٹر سے کم نہیں ہیں لہٰذا مریض کو کھاریاں شفٹ کرنے کارسک لینے کے بجائے فی الحال اسے یہیں پہ رکھا جائے البتہ حالت کچھ بہتر ہونے پر مزید علاج کے لیے اسے کسی بھی وقت کھاریان شفٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس واضح تسلی اور خاص کر مشکات سے فون پر گفتگو نے جہاں میری ڈھارس بندھائی وہاں میں اپنے تئیں یہ سمجھ کر قدرے مطمئن ہوگیا کہ اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان شاء اللہ وہ جلدہی صحتیاب ہوجائے گی۔ البتہ دوسری جانب جوں جوں شام کے دھندلکے پھیل کر رات کی تاریکی میں تبدیل ہورہے تھے توں توں نہ صرف میرے ایک ایک انگ میں درد کش ادویات کا اثر ختم ہونے پر درد اور جلن کی شدید ٹھیسوں میں اضافہ ہورہا تھا بلکہ پیش آنے والے واقعے کا ایک ایک لمحہ بار بار آنکھوں کے سامنے گھوم کر جہاں میری پریشانی میں مسلسل اضافہ کررہا تھا وہاں اس کیفیت نے مجھ سے نیند کو بھی کوسوں دور کردیا تھا۔ یہ رات شاید میری اب تک کی زندگی کی سب سے طویل اور بھیانک رات تھی جو میرے چاہنے کے باوجود نہ توکٹنے کا نام لے رہی تھی اور نہ ہی مجھے آرام دینے پر آمادہ نظر آ رہی تھی۔
صبح تقریباً پانچ چھ بجے کے درمیان میرے چچا پاس آ کر قرآن وحدیث کے حوالے دے کر مجھے یہ اطلاع دینے کے لیے ذہناً تیار کرتے رہے کہ میری لخت جگر مشکات ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھن چکی ہے مجھے یہ موقع یاد کرتے ہوئے اب بھی عجیب تعجب ہوتا ہے کہ پتا نہیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی کون سی قوت ودیعت کردی تھی کہ میں نے نہ صرف مشکات کی جدائی کی اطلاع بغیر کسی آہ وفغاں کے برداشت کرلی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے میرے قلب وجگر پر اطمینان وسکون کا ایسا پھاہا بھی رکھ دیا تھا کہ میں اپنے پائوں پرچل کر باہر سڑک پر کھڑی ایمبولینس میں مسکراتے چہرے کے ساتھ بے سدھ پڑی مشکات کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے کے قابل بھی ہوا۔ بچے ویسے تو ہر کسی کو پیارے ہوتے ہیں لیکن ہم جیسے متوسط طبقے کے لوگوں کا چونکہ جینا مرنا اور زندگی کی ہر خوشی اور غم اپنے پچوں سے جڑ ے ہوتے ہیں لہٰذا ایسے میں ایک جگر گوشے کی یوں اچانک رخصتی جہاں گہرے دکھ درد کا پہلو لیے ہوئے ہے وہاں یہ غیرمتوقع جدائی اب بھی ایک ڈرائونا خواب معلوم ہوتا ہے۔