کراچی طیارہ حادثہ، متاثرین نے بڑے مطالبات کردیے

91

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل، متاثرین نے بڑے مطالبات کردیے ہیں، ایک سال قبل ملیر کے رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے بدقسمت طیارے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین نے آر ڈی اے فارم کے مسئلے کو حل کرنے، تحقیقاتی بورڈ میں متاثرہ فیملیز کی شمولیت اور ہنگامی رسپانس سینٹر کے قیام کا مطالبہ کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے بدقسمت طیارے پی کے 8303 کے متاثرین نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے
بعد انہیں جس کرب سے گزرنا پڑا وہ ایک الگ داستان ہے، مگر ایک سال گزرنے کے بعد بھی انہیں انشورنس کلیم کی پیچیدگیوں میں ڈال دیا گیا ہے اور اس رقم کے حصول کے لیے آرڈی اے(ریلیز ڈسچارج آرڈر) پر دستخط کرکے کسی بھی ادارے کے خلاف کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ ایک سال گزر جانے کے باوجود اب تک تحقیقات جاری ہیں، جس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں،اگر مستقبل میں کوئی ادارہ مرتکب پایا گیا تو لواحقین ان کے خلاف لازمی کارروائی کریں گے۔لواحقین نے مطالبہ کیا کہ ’متاثرہ فیملی کے افراد کو ائر انویسٹی گیشن بورڈ میں شامل کیا جائے جبکہ آئندہ اس قسم کے حادثات کے لیے ایسا ہنگامی سینٹر بنایا جائے جہاں عوام کی رسائی آسانی سے ہو سکیں۔پی آئی اے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ولید بیگ کی ہمشیرہ کنول ارسلان کے مطابق ائر ٹریفک کنٹرول نے کپتان کو نہیں بتایا کہ طیارے کا لینڈنگ گیئر نہیں کھلا جبکہ کپتان کی جانب سے اترنے کی کوشش میں انجن کو ہونے والے نقصان پر کوئی یہ بتانے والا نہیں تھا کہ دوبارہ اڑان نہ بھریں۔اْن کا کہنا تھا کہ ائر پورٹ کے اطراف بلند عمارت نہ ہوتی تو بدقسمت طیارے کی لینڈنگ ہوسکتی تھی،طیارہ گرا اور گھنٹوں جلتا رہا لیکن وہاں آگ کو بجھانے کے لیے کوئی فوری انتظام نہیں تھا۔زرقا خالد چودھری کیمطابق طیارہ حادثے میں والد کو کھویا ہے، ایک سال گزرنے کے باوجود ہم کو اب تک سچ نہیں بتایا گیا، 13 روز تک میتوں کا انتظار کرتے رہے، ہمارا مقصد پیسہ نہیں ہمارا مقصد ہوائی سفر کرنے والوں کو محفوظ بنانا ہے۔ متاثرہ فیملیز کا مزید کہنا تھا کہ وکیل کے ہمراہ عید تعطیلات کے بعد پی آئی اے انتظامیہ کو دستاویزات جمع کرائیں گے۔