غزہ کی تازہ صورتحال اور کوروناوائرس نے عید کی خوشیاں ماندکردیں

149

کراچی ( تجزیاتی رپورٹ : محمد انور ) ملک میں کورونا وائرس کی جان لیوا وبا کے ساتھ غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید افراد کی تعداد 56 ہونے کی اطلاعات کے بعد اس بار عید کی خوشیاں ختم ہوچکی ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق شہدا میں 14 بچے بھی شامل ہیں۔کوروناوائرس اور غزہ کے حالات نے ملک میں عید کی روایتی جوش خروش کو ماند کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر کورونا وائرس نے پوری کردی ہے اورکراچی سمیت بڑے شہروں میں بازار سنسان اور ویکسین سینٹر پر ہجوم نظر آرہاہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق عید کی تعطیلات میں بھی ویکسینیشن کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ حکومت پاکستان کورونا وائرس سے نمٹنے اور غزہ کی صورتحال پر تشویش اور مذمتی اور احتجاجی بیانات کے ساتھ اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے شہباز شریف کو عید الفطر کے موقع پر ملک سے باہر جانے سے روکنے کے لیے بھی کوشاں رہی۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے مطابق وفاقی کابینہ کی ای سی ایل کمیٹی نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کردی ہے۔ شہبازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال بھی غیر مستحکم ہوتی نظر آ رہی ہے اہم بات یہ بھی ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد تقریباً تمام اسلامی ممالک کے ساتھ دیگر ملکوں کے مسلمانوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ خیال رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی حالیہ بمباری کو 2014 کے بعد سے اب تک کی سب سے شدت والی بمباری قرار دیا جارہا ہے۔غزہ کی تازہ صورتحال پر پاکستان اور ترکی سمیت دیگر مسلم ممالک میں اس امر اتفاق بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے کہ سب مل کر اسرائیل کی جارحانہ کارروائی کا جواب دینے کا وقت آگیا ہے ‘ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں عید کی خوشیاں کیسے ممکن ہوگی؟۔