عید مبارک: اسلام کا تصورِ تفریح

225

مطالعہ قرآن: ’’اللہ کے فضل کو یاد کرکے خوشی اور فرحت کا اظہار کرو، یہی تفریح ہے۔ اور یہ بہتر ہے اس سے جو تم جمع کرتے ہو‘‘۔ (یونس: ۸۵)
اسلام نے تفریح کے جو مواقع بتائے ہیں ان میں ذاتی مواقع، ملّی اور قومی سطح کے مواقع اور علاقائی سطح پر ہر خوشی اور جائز کامیابی کے مواقع شامل ہیں جو شریعت کی حدود کے اندر ہوں ان کی خوشی منانے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنے کا اہتمام نہ صرف جائز ہے بلکہ قرآن مجید کے بالواسطہ اشارے کے مطابق مسنون اور بہتر ہے۔ دنیا بھر میں جو تہوار منائے جاتے ہیں ان میں کسی موقع کو اللہ تعالیٰ نے تفریح و تہوار کے طور پر اختیار نہیں کیا۔ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں۔ آپؐ کا فرمان ہے ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ہماری یہ دو عیدیں ہیں یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ ان دونوں عیدوں کا تعلق نہ کسی جنگ میں کامیابی سے ہے نہ ریاست کے قیام سے یا کسی کی پیدائش یا وفات سے۔ ان دونوں عیدوں کا تعلق دو خالص اصولوں سے ہے جو انبیاؑ کی تعلیم کا ہمیشہ ممتاز ترین وصف رہے ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی الٰہی کا نزول، قرآن مجید کی عطا جس کے شکر میں عیدالفطر منائی جاتی ہے اور دوسرے اللہ کے حکم پر ایک مقصد کے لیے اپنی عزیز ترین چیز کی قربانی کی جو مثال قائم ہوئی اس کی یاد میں عیدالاضحی منائی جاتی ہے۔ ’’گویا تفریح اور تہوار نظریہ اور اصول کے ساتھ ہے‘‘۔ تفریح اور تہوار ایک فطری ضرورت ہے اور ہر انسان کسی خاص موقع پر خوشی منانا چاہتا ہے لیکن خوشی اور تفریح حدود سے نکل جائے تو اس سے اخلاقی، معاشی اور معاشرتی بہت سی قباحتیں پیدا ہوں گی۔ کسی بھی تفریح کو منانے کے لیے کچھ حدود درکار ہوتی ہیں جن سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
حیا: سب سے پہلی حد جو کسی تفریح کو منانے کے لیے درکار ہے وہ ہے حیا۔ انسان کو حیا کا پابند ہونا چاہیے۔ دوسری بنیادی حد تفریح یا خوشی میں اسراف و تبذیر سے بچنا چاہیے۔ خوشی منائیں، اللہ نے اچھے کپڑے دیے پہنیں، اچھا کھانے کو دیا کھائیں، رشتہ داروں اور عزیزوں کو گھروں میں بلا کر کھانا کھلائیں، لیکن اسراف و تبذیر سے کام نہ لیں۔ اسراف سے مراد کسی جائز کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا اور تبذیر سے مراد ناجائز کام میں خرچ کرنا۔ تیسری بنیادی حد یہ ہے کہ شریعت کے جو بنیادی مقاصد ہیں وہ نظرانداز نہ ہوں۔ یہ تین بنیادی شرطیں ہیں، ان حدود کے اندر جو تفریح ہوگی وہ جائز ہے۔
مطالعہ حدیث: سیدنا عروہ بن زبیرؓ، سیدنا عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس سیدنا ابوبکرؓ تشریف لائے اور میرے پاس دو لڑکیاں جنگ بعاث کے اشعار گارہی تھیں اور ان لڑکیوںکا پیشہ گانے کا نہ تھا۔ سیدنا ابوبکرؓنے فرمایا۔ یہ شیطانی باجا رسول اللہ ؐ کے گھر میں؟ اور وہ عید کا دن تھا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا۔ اے ابوبکرؐ! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔ (بخاری) سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کی روایت میں ارشاد نبویؐ ہے کہ رسول اللہؐ عیدالفطر میں نماز پڑھتے تھے اور پھر نماز کے بعد خطبہ کہتے تھے۔ سعد بن حارث سیدنا جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا۔ جب عید کا دن ہوتا تو نبی کریم ؐ واپسی میں راستہ بدل لیتے۔ (بخاری)
عیدالفطر یقینا مسلمانوں کے لیے اظہارِ مسرت کا دن ہے، یہ اللہ کا دیا ہوا تہوار ہے مگر سوچیے یہ خوشی کس بات کی ہے؟ رمضان المبارک اپنی تمام رحمتوں و برکتوں کے ساتھ آپ پر سایہ فگن ہوا، آپ نے اس کو اللہ کا انعام سمجھ کر اگر اپنی عاقبت بنانے اور مغفرت و مناجات کا سامان کرنے کی فکر کی ہے تو بیشک یہ خوشی کی بات ہے۔ اور آپ عیدالفطر منانے کے مستحق ہیں۔ مگر جس بدنصیب نے رمضان کی مبارک ساعتوں میں ذرا بھی اپنی مغفرت اور نجات کی فکر نہیں کی، سارا رمضان اس نے یونہی غفلت و محرومی میں گزار دیا، اللہ کو خوش کرنے کے بجائے اس نے اللہ کے غضب کو اور بھڑکایا، اس کو بھلا کیا حق ہے کہ وہ عید کا تہوار منائے، اور خوشی کا اظہار کرے۔ اس شخص کی ہلاکت اور محرومی میں کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے جس کی تباہی و ہلاکت کے لیے جبرئیل امین بددعا کریں اور اس بددعا پر رسول مقبولؐ آمین کہیں۔
احکامِ عید: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رمضان شریف کے روزے ختم ہونے کی خوشی میں شکریہ کے طور پر صدقہ مقرر فرمایا ہے، جس کو صدقہ فطرکہتے ہیں۔ صدقہ فطر ہر مسلمان صاحب نصاب پر واجب ہے جو نصاب زکوٰۃ کا ہے وہی صدقہ فطر کا بھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے مال پر ایک سال گزرنا شرط ہے جبکہ صدقہ فطر کے لیے اس کی ضرورت نہیں۔ مثلاً کسی کے پاس استعمال کے کپڑوں سے زیادہ کپڑے یا کوئی ذاتی مکان خالی پڑا ہو یا اور کوئی سامان و اسباب ہو جو اس کی ضرورت سے زائد ہو اور اس کی قیمت نصاب کے برابر ہو ایسے شخص پر صدقہ فطر واجب ہے۔ احادیث میں صدقہ فطر چار قسم کی چیزوں سے ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ کشمکش، چھوہارے، جو، گندم۔ گندم پونے دو کلو اور باقی تینوں ساڑھے تین کلو کی مقدار یا اس کے برابر قیمت ادا کرنی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صدقہ فطر صرف گندم کے ساتھ خاص ہے۔ حالانکہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اُن کو چاہیے کہ ان چار چیزوں میں جو چیز مالیت کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہو، اس کے مطابق صدقہ فطر ادا کریں تاکہ غریب کی حاجت بھی پوری ہو اور ثواب بھی خوب ملے۔ عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے صدقہ فطر کو اس لیے فرض قرار دیا کہ یہ روزہ دار کے بے ہودہ کاموں اور فحش باتوںکی پاکی اور مساکین کے لیے کھانے کا باعث بنتا ہے۔ نبی کریم ؐنے فرمایا کہ روزوںکی عبادت اس وقت تک زمین و آسمان کے درمیان معلق (بارگاہ خدواندی میں غیر مقبول) رہتی ہے جب تک کہ صاحب نصاب مسلمان صدقہ فطر ادا نہیںکردیتا۔ (مسلم) صدقہ فطر کی ادائیگی کا افضل وقت عید کی صبح صادق کے بعد اور نماز عید سے قبل ہے۔ آپؐ کا فرمان ہے۔ نما زکی طرف جانے سے پہلے زکوٰۃ فطر ادا کردی جائے۔ (بخاری)
عید کی سنتیں: عید کی نماز سے قبل غسل کرنا۔ نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہننا۔ خوشبو لگانا۔ عید کی نماز کے لیے پیدل جانا۔ عیدالفطر میں نماز عید سے پہلے کچھ کھا پی لینا۔ عیدگاہ کی طرف آتے جاتے راستہ بدلنا۔ عید کے دن مباح (جائز) کھیل کھیلنا ۔ نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کردینا۔