دنیا ہمارا لحاظ کرے

172

 

 

افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں مختلف اطراف سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کے باوجود جاری ہیں اور پاکستان ان کوششوں میں سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے جن کا کابل حکومت اور اس کے مغربی سرپرستوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز اعتراف کر رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورۂ کابل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ اس مختصر دورے میں افغان صدر اشرف غنی اور مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے ان کی الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔ برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل نکولس پیٹرک کارٹر بھی اس موقع پر کابل میں موجود تھے جن سے جنرل باجوہ کی الگ ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں افغان امن عمل، افغانستان میں سیکورٹی کی تازہ ترین صورتحال، پاک افغان بارڈر مینجمنٹ اور باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات زیر غور آئے، صدر اشرف غنی سے ملاقات کے دوران جنرل باجوہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان افغان عوام کے لیے دیرپا امن کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پُرامن افغانستان کا مطلب پُرامن خطہ، بالخصوص پُرامن پاکستان ہے۔ اسی لیے ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے باہمی اتفاق رائے پر مبنی ’’افغان زیر قیادت، افغان ملکیت‘‘ امن عمل کے خواہاں ہیں۔ افغان صدر نے اس موقع پر افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی اور خواہش ظاہر کی کہ پاکستان، افغانستان میں مستقل امن کے لیے معاونت کرتا رہے۔ ان کا یہ بیانیہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ماضی میں کابل حکومت اور اس کے مغربی سرپرست پاکستان پر افغانستان میں ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں میں افغان طالبان کی پشت پناہی کے بے بنیاد الزامات لگاتے رہے ہیں۔ اب جبکہ پاکستان کی سرگرم سہولت کاری سے امن کے امکانات بڑھتے نظر آ رہے ہیں اور افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے تو کابل اور مغربی دارالحکومتوں میں بھی پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اسے مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ دوحہ میں ہونے والا معاہدہ پاکستان ہی کے موقف کی عکاسی کرتا ہے جس میں یکم مئی تک افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا وعدہ کیا گیا تھا مگر امریکا اس پر قائم نہ رہ سکا اور واپسی کی تاریخ 11ستمبر تک بڑھا دی۔ اس پر طالبان کی صفوں میں اضطراب پیدا ہوا اور نتیجتاً افغانستان میں پر تشدد سرگرمیوں، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا سلسلہ پھر تیز ہو گیا۔ مختلف مقامات پر فورسز اور سویلین ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا جس سے درجنوں بیگناہ لوگ مارے گئے ان میں ایک اسکول کی طالبات بھی شامل ہیں۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر پاکستانی حکام کا ایک وفد گزشتہ ہفتے پھر دوحہ گیا اور طالبان کو جنگ بندی کے لیے کہا۔ طالبان نے مستقل جنگ بندی سے تو انکار کر دیا تاہم عیدالفطر پر تین روز کے لیے عارضی جنگ بندی پرآمادہ ہو گئے اگرچہ افغانستان میں داعش اور کچھ دوسری قوتیں بھی سرگرم ہیں جو افغانستان کو جنگ کا اکھاڑہ بنائے رکھنا چاہتی ہیں مگر بنیادی فریق طالبان اور کابل حکومت ہی ہیں اس لیے ان میں عارضی صلح نامہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔
افغانستان میں کسی بھی طرح کی شورش، خانہ جنگی اور بدامنی کے اثرات پاکستان پر لازماً پڑتے ہیں اس لیے آرمی چیف نے درست کہا کہ افغانستان میں امن، پاکستان میں امن کا ضامن ہے، دونوں ملکوں کی سرحدیں مشترک ہیں ان کے لوگوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں اور ان کی معیشت بھی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہے اس لیے پاکستان افغانستان میں امن کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان کے خلوص کا ادراک کرنا چاہیے اور بھارت سمیت ان بیرونی قوتوں کے گھنائونے کھیل کوروکنا چاہیے جو اصل میں افغانستان کے امن سے کھیلنا چاہتی ہیں۔