کشمیریوں کے ساتھ بھی مذاق

179

پاکستانی حکمرانوں اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان کا حال عجیب و غریب ہے ان کا رویہ پاکستانی عوام کے ساتھ تو بے اعتنائی والا تھا ہی لیکن امت مسلمہ کے معاملے میں بھی وہ جس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں انہیں کسی طور بھی سنجیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توہین رسالت کے معاملے میں کہتے رہے کہ ایک ملک کے آواز اٹھانے سے کیا ہوگا دو تین درجن ملک مل کر آواز اٹھائیں اور دو تین درجن ملک یک زبان ہونے کو بھی تیار نہیں۔ فلسطین کے مسئلے پر بھی مطالبات عالمی اداروں سے کرتے رہے لیکن اب تو انہوں نے انتہا کر دی۔ کشمیریوں کا مسئلہ براہ راست پاکستان سے متعلق ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اس مسئلے پر 5 اگست 2019ء سے وزیراعظم الٹے سیدھے اقدامات کرتے آرہے ہیں لیکن اب عین عیدالفطر کے موقع پر کہا ہے کہ بھارت سے بات نہیں کریں گے وہ تو تباہ ہوگا۔ بھارت سے اس وقت تک بات نہیں کریں گے جب تک وہ 5 اگست کا اقدام واپس نہیں لے گا۔ دوسری طرف ان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں کہ ہم تو بھار ت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ وزیراعظم کم ازکم اپنی صفوں میں اور اپنے صف اول کے وزیر کو تو اعتماد میں لے لیں۔ جب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ایک آواز نہیں تو کسی بھی مسئلے پر دو درجن ممالک کی آواز ایک کیسے ہو گی۔ لیکن اس سے قطع نظر وزیراعظم نے یورپ کی خاموشی پرجو دلیل دی ہے وہ خوب ہے کہ مغرب چین کے مقابلے پر بھارت کو تیار کر رہا ہے اسی لیے مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر خاموش ہے۔ اگر یہی دلیل ہے تو جناب کی حکومت کیوں 2019ء سے خاموش بیٹھے رہے اسے کس نے تیار کیا ہوا ہے۔ کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوں ان کو مدد ملے ان کے دکھوں کا مداوا ہو۔ یہ کیا کہ عورتوں کی طرح کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو مرے گا۔ بھارت تباہ ہو جائے گا۔ لیکن خان صاحب یہ پرانا مقولہ انہوں نے ضرور سنا ہو گا کہ کووں کے کوسنے سے ڈھور نہیں مرتے۔ یہ عورتوں بچوں کی طرح کہنا کہ جائو بات نہیں کریں گے کسی حکمران کے شایان شان نہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے کشمیر، فلسطین پاکستانی عوام کے مسائل بجلی، پیٹرول، چینی، آٹا اور روزگار کی فراہمی کی کوششوں کے بجائے جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ شریف خاندان کو نہیں چھوڑوں گا۔ شہباز شریف کو بھاگنے نہیں دوں گا۔کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والی مافیا قانون کی بالادستی نہیں چاہتی۔ وہ اپنی صفوں میں موجود مافیا کو تو رعایتیں دے رہے ہیں اور شریف خاندان کو پکڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔لیکن عمران خان صاحب آپ کو شریف خاندان کو پکڑنے کے لیے نہیںلایا گیا تھا اگر لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا تو اس لیے دیا کہ شریف خاندان نے کرپشن کی تھی آپ کی بات پر یقین کرکے لوگ آپ کے ساتھ آئے تھے آپ نے کرپشن کب اور کتنی ختم کی۔ آپ تو کرپشن کرنے والوں سے مذاکرات کرتے ہیں۔ ان سے بھی کہتے کہ تم گرفتار ہو جائو گے جائو بات نہیں کرتے… لیکن اس صورت میں اپنی حکومت خطرے میں تھی۔ عمران خان صاحب آپ خود بتائیں کہ اگلا حکمران اگرعمران خان کو نہیں چھوڑوں گا، عمران خان کی حکومت کی کرپشن نے ملک تباہ کیا، کی قوالی اپنے اقتدار کے ڈھائی سال بعد بھی گاتا رہے تو آپ اسے کیا کہیں گے۔ پاکستان میں حکومت کشمیر کی آزادی کے نام پر تبدیل ہوتی ہے۔ شریف اور بھٹو خاندان نے کشمیر کی آزادی کے لیے کچھ نہیںکیا۔ سابق حکمرانوں نے فلسطینیوں، بنگلا دیش میں محصورین، چین میں ایغوروں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ماینمار میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ بھارت کے مظلوم مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ عمران خان کی حکومت ان مسائل کے حل کے نام پر آئی تھی۔ اسے عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی سے نکالنا تھا۔ ایک کروڑ ملازمتیں دینی تھیں، 50 لاکھ گھر دینے تھے۔ روزانہ 12 سو ارب روپے کی کرپشن روکنی تھی۔ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لینا تھا۔ اور نہ جانے کتنے وعدے کیے تھے ان میں شریف خاندان بہت پیچھے تھا۔ وزیراعظم صاحب کشمیر پر دو ٹوک موقف اختیار کرکے بھارت کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں ایسا تاثر پختہ نہ کریں کہ وہ کشمیر کا سودا کر چکے ہیں۔