سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی سے نکاسی آب کا معاملہ گمبھیر ہوگیا

135
سیاسی جماعتوںکی رسہ کشی کے باعث کورنگی میں مسجد کے سامنے 7ماہ سے گٹرکاپانی جمع ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے بلدیاتی نظام اور اختیارات کے تنازع نے ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ شہر میں مختلف نوعیت کے سنگین مسائل میں نکاسی آب کا معاملہ بدترین صورت اختیار کرگیا ہے۔ کورنگی کے علاقے ڈھائی نمبر سیکٹر 33 سی بھی ایسے ہی علاقوں میں شامل ہے، جو سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی کا میدان بنا ہوا ہے۔ علاقے کی مرکزی مسجد محمدی کے آگے 7 ماہ سے گٹر کا پانی جمع ہے۔ سیاسی فائدے کی خاطر گندگی برقرار رکھنے کیلیے مختلف جماعتیں ہتھکنڈوں کااستعمال کررہی ہیں، مکینوں نے وزیر بلدیات سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔وقفے وقفے سے علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گٹر کی صفائی کرائی، تاہم اب کئی روز سے ایک بار پھر پانی مسجد کے آگے کھڑا ہے۔ مکینوں نے مسجد کا راستہ صاف رکھنے کے لیے بند باندھا ہے، تاکہ رمضان المبارک میں اور نماز عید کے لیے آنے والوں کو پریشانی نہ ہو، تاہم گٹر ابلنے سے علاقے بھر کا پانی مسجد کے آگے جمع ہو رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ درجنوں بار بلدیاتی انتظامیہ کو مسجد کے لیٹر ہیڈ پر تحریری اور زبانی درخواست دی جاچکی ہے، تاہم کبھی بھی شنوائی نہیں ہوئی۔ کئی بار بلدیاتی دفتر سے گاڑیاں اور عملہ صفائی کے لیے نکلا تو راستے میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی بلدیاتی ملازمین اور سیاسی جماعتوں کے کارکن انہیں زبردستی دیگر مقامات پر لے گئے اور مسجد کے باہر صفائی کا کام نہ ہوسکا۔ مکینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسجد کی مرکزیت کے باعث سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ناکام دکھانے کے لیے مسجد کے آگے یہ گندگی برقرار رکھنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کررہی ہیں۔ مکینوں اور مسجد انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر بلدیات ناصر شاہ اور دیگر حکام اس مسئلے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ہنگامی احکامات جاری کریں اور مسجد کے آگے صفائی کرانے کے ساتھ گٹر لائن کی مرمت کا کام کرائیں، تاکہ نمازی اور مکین مہینوں سے جس پریشانی اور ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں، اس کا ازالہ ہوسکے اور شہری سڑک پر عید کی نماز ادا کرسکیں۔