کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل

322

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن اب تک ماڈل کالونی کے مکینوں کے لیے وہ خوف اور غم ختم نہیں ہوا ہے، جس گلی میں یہ حادثہ ہوا اب تک وہاں کے لوگ اپنے آشیانے دوبارہ بسنے کے انتظار میں ہیں۔

جناح گارڈن کی اس بد قسمت گلی میں جلے ہوئے درو دیوار پیڑ پودے اورٹوٹی ہوئی چھتیں اس خوفناک حادثے کی یادوں کو آج بھی تازہ کر رہے ہیں، اس گلی میں موجود اس آم کے درخت کی تمام شاخیں جل چکی ہیں لیکن پھر بھی پرندوں نے اس پر اپنا گھونسلا دوبارہ آباد کر لیا یہاں کے مکین بھی دعا گو ہیں کہ ان کے آشیانے بھی جلد تعمیر ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق ایک سال قبل گرکر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے بدقسمت طیارے پی کے 8303 کے متاثرین نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے بعد انھیں جس کرب سے گزرنا پڑا وہ ایک الگ داستان ہے، مگر ایک سال گزرنے کے بعد بھی انھیں انشورنس کلیم کی پیچیدگیوں میں ڈال دیا گیا ہے، اور اس رقم کے حصول کے لیے آرڈی اے(ریلیز ڈسچارج آرڈر) پر دستخط کرکے کسی بھی ادارے کے خلاف کارروائی سے گریزاں کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود اب تک تحقیقات جاری ہیں، جس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں،اگر مستقبل میں کوئی ادارہ مرتکب پایا گیا تو لواحقین ان کے خلاف لازمی کارروائی کریں گے۔22 مئی کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کو پیش آنے والے سانحے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے مسافروں کے غمزدہ رشتہ داروں نے فضائی حادثات کی تفتیشی برانچ (اے اے آئی بی) کی جانب سے جاری کردہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیٹا کا مزید جائزہ لیا جائے اور بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے جاری کردہ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انسیڈنٹ انویسٹی گیشن پروسیجر کے تحت مکمل رپورٹ جاری کی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف ایک ایئر لائن ہی نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے، اس معاملے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، پائلٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ورکر یونینز، جو جہاز کے فضا میں جانے سے قبل طیارے کے ہر ایک حصے کی جانچ کے ذمہ دار ہیں، ’ان سب میں ایک بڑی تنظیم نو کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف ایک ایئر لائن ہی نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے، اس معاملے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، پائلٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ورکر یونینز، جو جہاز کے فضا میں جانے سے قبل طیارے کے ہر ایک حصے کی جانچ کے ذمہ دار ہیں، ’ان سب میں ایک بڑی تنظیم نو کی ضرورت ہے۔لواحقین نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ فیملی کے افراد کو ائیر انویسٹیگیشن بورڈ میں شامل کیا جائے جبکہ آئندہ اس قسم کے حادثات کے لیے ایسا ہنگامی سینٹر بنایا جائے جہاں عوام کی رسائی آسانی سے ہو سکیں۔پی آئی اے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ولید بیگ کی ہمشیرہ کنول ارسلان کا کہنا تھا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول نے کپتان کو نہیں بتایا کہ طیارے کا لینڈنگ گئیر نہیں کھلا جبکہ کپتان کی جانب سے اترنیکی کوشش میں انجن کو ہونے والے نقصان پر کوئی یہ بتانے والا نہیں تھا کہ دوبارہ اڑان نہ بھریں۔اْن کا کہنا تھا کہ ائیر پورٹ کے اطراف بلند عمارت نہ ہوتی تو بدقسمت طیارے کی لینڈنگ ہوسکتی تھی،طیارہ گرا اور گھنٹوں جلتا رہا لیکن ہنگامی طور پر پر وہاں آگ کو بجھانے کے لیے کوئی فوری انتظام نہیں تھے،جائے حادثہ پر نہ پانی تھا اور نہ ہی فوم موجود تھا،کس کی کیا کیا غلطیاں تھیں ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا ہے۔

زرقا خالد چوہدری نے کہا کہ طیارہ حادثے میں والد کو کھویا ہے، ایک سال گزرنے کے باوجود ہم کو اب تک سچ نہیں بتایا گیا، بائیس مئی 2020 کو حادثہ ہوا اور بارہ سے تیرہ روز تک میتوں کا انتظار کرتے رہے، ہمارا مقصد پیسہ نہیں ہمارا مقصد ہوائی سفر کرنے والوں کو محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے وعدہ کیا ہے اگلے اجلاس میں اس مسئلہ کو اٹھایا جائے گا۔ متاثرہ فیملیز کا مزید کہنا تھا کہ وکیل کے ہمراہ عید تعطیلات کے بعد پی آئی اے انتظامیہ کو دستاویزات جمع کروائیں گے۔بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرین نے9نکات پر مشتعمل مطالبہ کیا ہے!
1 حادثے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں جس میں لواحقین کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
2. پہلے سے کی گئی اے اے آئی بی کو کالعدم قرار دیا جائے۔
3. پی آئی اے اور دیگر ائیرلائن کے انشورنس کاونٹرکٹ پبلک کئے جائیں۔
4. ذمہ داروں کو قرار واقعی سزادی دی جائے۔
5. لواحقین کو انشورنس کی رقوم جلد سے جلد اور بغیر کسی شرئط کے ادا کی جائیں۔
6. جہاز حادثے کی تفصیل رپورٹ کو جلد سے جلد پبلک کیا جائے۔
7.لواحقین کے قانونی اور انسانی حقوق کو پروٹیکشن دی جائے۔
3۔ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن نے حادثے کی کوئی انٹرنل انکوائری کی اگر کی تو ان کی فائنڈنگ کیا ہیں۔
4۔ پچھلے دنوں ہمارے ائیرپورٹس پر حفاظتی انتظامات بہتر سے بہتر کیا جائیں اور حفاظتی احلاحات ازسرے نوتشکیل دیا جائے۔
5۔ کسی بھی فضائی حادثے کی صورت میں ریسکیو ٹیموں کا رسپانس ٹائم کیا ہے؟
6. ائیر ایکٹ 2012, این آء سی ایل، اور سی اے اے کی جانب سے ایس آر او کے درمیان تضادات کو دور کیاجائے۔
7. پی کے 8303 کے حادثے کے ساتھ دیگر حادثات کی مجموعی تحقیقات کرائی جائیں کہ کیوں پاکستان میں فضائی حادثات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
8 این ڈی ایم اے کو یا تو مکمل طور پر فال کیا جائے یا اس ختم کر کر کے قوم کے پیسے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
9. آخر میں ہم حکومت سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے حکام سے درخواست کریں گے کے شہداء کا جو سامان اب تک پی آئی اے نے بغیر کسے وجہ کے روکا ہوا ہے اسے لواحقین کے حوالے کیا جائے۔

آخر میں لواحقین نے کہا کہ حادثے میں شہید ہو نے والے شہداء کی پہلی برسی 22مئی 2021بروز ہفتہ کوایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جو کے جائے حادثہ پر واقع پارک میں عصر سے مغرب کے درمیان ہو گئی،شرکت کی درخواست کی ہے۔