ماحولیاتی بحران سرمایہ داری کا خود ساختہ ہے

214

آج ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ کائناتی حرارت میں اضافہ کو روکنے میں سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں برف کے تودے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ طوفان باد و باراں اور خشک سالی عام ہو رہی ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں تیزابیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگلات تباہ ہو رہے ہیں اور حیوانات اور حشرات الارض کی نسل کشی جاری ہے۔ ماحولیاتی بحران سے سرمایہ دارانہ تنظیم معاشرت و معیشت متاثر ہو رہے ہیں۔ ماحولیاتی بحران سرمایہ داری کا خود ساختہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ صَرف میں مستقل بے اندازہ اضافہ ہے جو حرص و ہوس کے عالمی پھیلاؤ کے نتیجے میں عام ہوگیا ہے۔ سترہویں صدی سے جاہلی علمیت یعنی سائنس نے تسخیر کائنات کا عمل جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں سائنس دان مستقل قدرتی وسائل کا استحصال کر رہے ہیں۔سرمایہ دارانہ بڑھوتری نے صنعتی انقلاب کے وقت سے لے کر آج تک تیل، گیس اور کوئلے کے ذخائر کا سہارا لیا ہے۔ ان ذرائع کا بے دریغ استعمال ہی ماحولیاتی کثافت کا اصل سبب ہے اور ان کے استعمال کی تحدید ماحولیاتی بحران کو روکنے کے لیے ناگزیر ہو گئی ہے۔
آج دنیا میں بیش تر افراد کی زندگیاں انہی ذرائع توانائی کی فراوانی پر منحصر ہیں اور یہ انحصار سرمایہ دارانہ حکمت عملی نے پیدا کیا ہے۔ ان ذرائع توانائی کو سرمایہ کے معاشرتی تحکم کو مستحکم کرنے کے لیے دانستہ طور پر استعمال کیا گیا ہے اور تحقیق سے ثابت ہے کہ متبادل ذرائع توانائی میں سرمایہ دارانہ نظاماتی تحکم کو قائم رکھنے والی وہ خصوصیات نہیں پائی جاتیں جو تیل، گیس اور کوئلہ میں موجود ہیں۔ متبادل ذرائع مخصوص مقامات پر مجتمع نہیں اور ان کے اخراج اور ترسیل کے ذریعے صفائی اور صنعت سازی سے سرمایہ دارانہ کارپوریشنیں اس طرح منافع حاصل نہیں کرپاتیں جیسے وہ تیل اور گیس کے کاروبار سے کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ متبادل ذرائع توانائی کا استعمال توانائی کو مہنگا بھی کر دیتا ہے اور تقسیم آمدنی کی نامساویت میں اضافہ کا باعث بنتا ہے جو سرمایہ دارانہ تحکم کے جواز کے لیے خطرہ ثابت ہوتا ہے۔ 2019 میں چلی میں بڑے پیمانہ پر عوامی مزاحمت متبادل توانائی کے استعمال کے خلاف ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں سات ملین گھرانوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں 9.2 فی صد اضافہ ہو گیا۔ کیلی فورنیا میں 2019 اور 2020 میں نجی توانائی کارپوریشنیں متبادل توانائی میں جو سرمایہ کاری کررہی ہیں اس سے بڑے پیمانے پر بجلی کی فراہم میں تعطل معمول بنتا جا رہا ہے۔ 2019 میں ان بلیک آؤٹس سے کیلی فورنیامیں تین ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔ متبادل توانائی میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سرمایہ دارانہ نظاموں میں نج کاری کو فروغ دے رہی ہے لیکن نج کاری کے خلاف عوامی مزاحمت بڑھ رہی ہے کیونکہ نج کاری کے نتیجے میں بجلی کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی بحران سے نبردآزمائی کے لیے سرمایہ دارانہ کارپوریشنیں اور حکومتیں جو حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اس سے ان کی معاشرتی مقبولیت یعنی جمہوری تائید کم ہوتی جا رہی ہے۔
نج کاری کی ایک صورت توانائی کی تجارت ہے۔ 1980 کی دہائی سے سرمایہ دارانہ حکومتیں توانائی کے استعمال کی حدود مقرر کررہی ہیں اور نجی کارپوریشنوں کو ان حدود کی خرید و فروخت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں میں یہ سٹہ کا کاروبار بن گیا ہے اور سٹہ باز توانائی کی قیمتوں میں اضافہ میں توقع کی بنیاد پر جوا کھیل رہے ہیں۔ اس سے توانائی کی قیمتوں میں مستقل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پانی کا ترسیلی نظام محدود ہو رہا ہے اور ماحولیاتی کثافت میں اضافہ جاری ہے۔ متبادل توانائی کے اجرا کے خلاف عوامی جدوجہد کامیاب ہو رہی ہے۔ اکتوبر 2019 میں چلی کی حکومت کو توانائی کی قیمت میں سے لگائے گئے 9.2 فی صد اضافہ کی تنسیخ کرنا پڑی اور جنوبی افریقا، پیراگوئے اور دیگر چند ممالک میں اس نوعیت کی اہم کامیابی ہوئی۔تیل اور گیس اور کوئلے کی جگہ متبادل ذریعہ توانائی کے فروغ سے توانائی کارپوریشنوں کا منافع گھٹ رہا ہے۔ متبادل توانائی کے انفرا اسٹرکچر کی تنصیب اور کارفرمائی کے اخراجات قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافہ کی شکل میں عوام تک منتقل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ متبادل توانائی کی ذخیرہ اندوزی کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں اور اس شعبہ میں اوسط منافع میں کمی کا اہم سبب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی بینک اس شعبہ کی کارپوریشنوں کو قرضہ دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔
بادی (wind) اور شمسی (solar) توانائی کے مارکیٹوں میں مسابقت کے رجحان کو فروغ دینے سے جیسا کہ کیلی فورنیا میں 1999 کی قانون سازی کے ذریعے کیا گیا، متبادل توانائی کی قیمتوں میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بادی اور شمسی توانائی کی رسد موسمی تغیرات سے متاثر ہوتی ہے۔ ماحولیاتی ابتری کے نتیجے میں دنیا بھر میں موسمی تغیرات نہایت شدید ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا بادی اور شمسی توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے خطرہ کا عنصر مستقلاً بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسی توانائی خشک سالی سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ کیلی فورنیا کی توانائی کارپوریشن نے 2001 اور 2015 میں اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا ہے اور اس کا سبب موسمیاتی بحرانوں کو بتایا ہے۔ PCAE کارپوریشن کا توانائی ترسیلی انفرا اسٹرکچر تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اور یہ فرسودہ نظام کیلی فورنیا میں آتشزدگی کے وسیع پھیلاؤ کو روکنے سے قاصر ہے۔ اس کارپوریشن کی مینجمنٹ اس بات سے کئی دہائیوں سے آگاہ ہے لیکن ان تنصیبات کو تبدیل کرنے کے اخراجات کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی رویہ کراچی الیکٹرک نے اپنے فرسودہ بجلی کے ترسیلی نظام کی تبدیلی کے ضمن میں اختیار کیا ہوا ہے۔
ماحولیاتی تنزل اور آلودگی کی وجہ سے جو حادثات رونما ہو رہے ہیں (آتشزدگی، سیلاب، طوفان، تباہی، خشک سالی) انہوں نے عالمی انشورنس کمپنیوں میں ایک شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔ 2019 کی کیلی فورنیا کی آتش زدگی کے سبب انشورنس کمپنیوں کو 24 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا لہٰذا انشورنس کی فیس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ قرضوں کے انبار کھڑے ہوتے جا رہے ہیں اور سٹہ باز ان قرضوں کی بنیاد پر derivative کے لین دین کے ذریعے عالمی حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں میں عدم توازن پیدا کر رہے ہیں۔ قرضوں کے اضافہ کے تخمینے کے لیے توانائی فراہم کرنے والی کمپنیاں بڑے پیمانے پر لوڈ شیڈنگ کرتی ہیں۔ صرف پاکستان ہی میں نہیں پوری دنیا میں (یہاں تک کہ کیلی فونیا میں بھی) لوڈ شیڈنگ روزمرہ کا معمول بن گیا ہے اور اس لوڈ شیڈنگ کا بوجھ غریبوں اور کچی آبادیوں اور خیمہ بستیوں پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ مخالف مزاحمت پھیل رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز زندگی اختیار کیے ہوئے عوام کے لیے بجلی ایک بنیادی ضرورت بن گئی ہے اور اس کا تعطل اور عدم فراہمی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ یوں بجلی کا بحران سرمایہ دارانہ تحکم کی عوامی جوازیت کو مجروح کرتا ہے۔ جیسے جیسے یہ احساس عام ہوتا جاتا ہے کہ عوام کی بنیادی ضرورت کی اس شے کو سٹے باز منافع خوری کے لیے بیچ اور خرید رہے ہیں ویسے ویسے مارکیٹی کارفرمائی سے عوامی اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی کثافت کو کم کرنے کے لیے سرمایہ دار تیل اور گیس اور کوئلے کی جگہ متبادل توانائی کے ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں لیکن متبادل توانائی کا استعمال ملک میں توانائی کو مہنگا کرنے اور ملک میں تقسیم آمدنی کی نامساویت بڑھاتا ہے اور اس نامساویت میں اضافہ کی وجہ سے سرمایہ دارانہ تحکم کی جمہوری جوازیت متاثر ہوتی ہے۔ پھر متبادل توانائی پر انحصار معیشت کے عدم استحکام کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک تو بادی، آبی اور شمسی توانائی کی رسد موسمی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوتی رہتی ہے اور رسد اور قیمت ان مستقل جاری رہنے والے تغیرات سے سٹہ بازوں کی منافع خوری کے لیے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں اور یہ عمل حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں کو مستقل غیر مستحکم اور غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔
ماحولیاتی بحران نہایت گمبھیر اور ہمہ گیر ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر کائناتی حرارت حالیہ رفتار سے بڑھتی رہی تو اس صدی کے آخر تک دنیا شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہو جائے گی۔ یہ ماحولیاتی بحران سرمایہ داری نے پیدا کیا ہے اور ماحولیاتی بحران سرمایہ دارانہ دیگر بحرانوں معاشی و سماجی وغیرہ سے پیوست ہے۔ اول تو متبادل توانائی کا تیل، گیس اور کوئلے کو مطلوبہ حد تک بے دخل کرنا دینا مشکل نظر آتا ہے لیکن اگر ایسا ممکن ہو بھی گیا تو سرمایہ دارانہ نظام کو اس تبدل کی جو قیمت دینا پڑے گی وہ ناقابل برداشت ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشی عمل کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کی رفتار کو مستقلاً تیزتر کرنا ہے اور متبادل توانائی میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں اوسط شرح منافع گرنے کا امکان اور اس رجحان کو روکنے کے لیے لازم ہے کہ تقسیم آمدنی اور دولت کی نامساویت بڑھائی جائے۔ اس کے علاوہ متبادل ذرائع توانائی سرمایہ دارانہ پیداواری اور فنانشل نظاماتی کاروباری خطرات کو بڑھانے کا سبب ہے۔ نامساویت اور خطرات میں اضافہ سرمایہ دارانہ تحکم کے عوامی جمہوری جواز کو کم کر دیں گے اور مزاحمتی عوامی بغاوتیں پھیلنے کے امکان بڑھ رہے ہیں لیکن ان کے کامیاب ہونے کا امکان اس بات پر منحصر ہے کہ انقلابی، سرمایہ دارانہ روحانیت (حرص و حسد کی پرستش) کو ترک کر دیں۔ جب تک سرمایہ دارانہ روحانیت کو ترک نہیں کیا جا ئے گا سرمایہ دارانہ نظام اپنے تمام تر شدید ہوتے بحرانوں کے باوجود کارفرما رہے گا۔