مئی… ٹیپو سلطان کی شہادت کا مہینہ

223

مئی کا مہینہ آئے اور ٹیپو سلطان کی بات نہ کی جائے۔ یہ ممکن نہیں کہ مئی کا مہینہ شہیدان محبت کے امام، حریت کے پروانے ’’سلطان ابوالفتح علی ٹیپو‘‘ کی شہادت کا مہینہ ہے۔ سلطان ٹیپو جس نے غیر ملکی اقتدار کو روکنے کے لیے اپنی پوری زندگی مجاہدنہ سرگرمیوں میں بسر کی، وطن کو غیر کی غلامی سے بچانے کے لیے اپنا ہر آرام و چین بھلا دیا۔ اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھا اور آخر کار خود بھی مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہوگیا۔ ٹیپو سلطان اتحادِ بین المسلمین کا پُرجوش داعی تھا جس نے اس حقیقت کو سب سے پہلے محسوس کیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نجات کا راز آپس کے اتحاد اور یگانگت میں مضمر ہے۔ سلطان ٹیپو کی شہادت پر لارڈ ہارس بے اختیار پکار اُٹھا کہ ’’آج ہندوستان ہمارا ہے‘‘ تمام بڑے مورخ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ 1764ء میں سندھیا کی وفات کے بعد انگریز ہندوستان کی سرزمین پر مکمل قبضہ کی راہ میں صرف ایک شخصیت کو اپنا حریف سمجھتے تھے اور وہ تھا میسور کا فرمانروا ’’ٹیپو سلطان‘‘۔ ہندوستان کو غلامی سے بچانے کے لیے ٹیپو نے اس وقت کی ہندوستان کی تمام طاقتوں کو انگریزوں کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی حالاں کہ اس وقت کے والیان ریاست متحدہ قومیت کے تصور سے بھی آشنا نہیں تھے۔ ٹیپو سلطان نے مرہٹوں اور نظام دونوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی، انہیں متحد ہو کر آزادی کی حفاظت کی ترغیب دلائی لیکن افسوس ذاتی اقتدار اور
شخصی مفاد کی خاطر انگریزوں کا ساتھ دیا گیا۔ بالکل اسی طرح جیسے آج مسلم حکمران اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے امریکیوں کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اقتدار نے کب کسی کا دیا ہے۔ ہاں یہ ہوا کہ پوری ہندوستانی قوم غلامی کی دلدل میں دھنس گئی۔ جس پر ہر تاریخ دان نے انہیں غداران قوم کے لقب سے پکارا۔ اقبال نے کہا۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ ملت ننگ دیں ننگ وطن
لیکن افسوس کہ نہ جعفر و صادق سبق سیکھتے ہیں نہ ان کے جانشین و حالی موالی ہی عقل سے کام لیتے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہم نے اپنے آزادی کے عظیم کرداروں کو بھلا دیا۔ غلامی کی سوچ و فکر کو ایسے دل میں بسایا کہ آقائوں کی ہر ادا کو دل سے لگالیا۔ ان کے طور طریقے ادب و آداب، تہذیب و ثقافت، زبان لباس غرض ہر چیز کو اپنایا۔ اپنی تاریخ کی کتابوں میں، نصابوں میں آزادی کے ان کرداروں کو جگہ دی نہ اُن کے متعلق اپنی نسلوں کو بتایا جنہوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ سراج الدولہ، حافظ رحمت خان، شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید جیسے کتنی ہی عظیم ہستیاں ہیں جنہیں آج نہیں جانا جاتا۔ آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کے لیے ہمارے ریڈیو اور ٹی وی دونوں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے، نہ ٹاک شوز کے لیے یہ کوئی اہم موضوع ہوتا ہے، نہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے ان پر کوئی پروگرام ہوتا ہے۔ مہینوں کیا برسوں گزر جاتے ہیں، اب تو اقبال کے معاملے میں بھی میڈیا نے فراموش پالیسی پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ سچ بتائیے کہ آپ نے اقبال کی شاعری ریڈیو یا ٹی وی سے آخری دفعہ کب سنی تھی۔ یہ آپ کو بھی یاد نہیں ہوگا، اب نہ اقبال کی فکر سے آگاہی کا کوئی پروگرام ہوتا ہے نہ آزادی کے کرداروں کو تاریخ کے پردوں سے باہر لا کر دکھانے اور سنانے کا اہتمام ہوتا ہے۔ پوری نئی نسل اقبال سے ناآشنا سی ہوتی جارہی ہے۔
اقبال ٹیپو سلطان سے اپنی ملاقات کا حال ’’جاوید نامہ‘‘ میں یوں بتاتے ہیں۔
آں شہیدانِ محبت را امام
آبروئے ہندو و چین و روم و شام
نامش از خورشید و مہ تابندہ تر
خاک قبرش از من و تو زندہ تر
یعنی اے اقبال! سلطان ٹیپو شہیدان محبت کا امام تھا اور مشرقی ممالک کی آبرو و آزادی، اس کی ذات سے وابستہ تھی آج اس کا نام سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے اور اس کی قبر کی مٹی ہندوستان کے رسمی مسلمانوں سے زیادہ زندگی کے خواص اور آثار اپنے اندر رکھتی ہے۔
سیاسی تدبر اور حسن تدبیر میں ٹیپو سلطان کو تمام ہندوستانی بادشاہوں پر بلند مقام حاصل ہے۔ وہ ہندوستان کے مقتدر حلقوں میں پہلا شخص تھا جس نے انگریز بادشاہ کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس میں پنہاں خطرات کو پوری طرح محسوس کیا اُن کو روکنے کے لیے بہترین تدابیر اختیار کیں۔ اس نے فوجی طاقت کے علاوہ صنعتی اور تجارتی شعبوں کی اہمیت کو محسوس کیا، تمام گردو نواح کے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ سمٹ کر اُس کی سلطنت میں جمع ہوجائیں۔ کیوں کہ وہ مضبوط متحد آبادی کی اہمیت سے واقف تھا۔ اس نے مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کو انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے متحد کرنے کی بھی حتیٰ الامکان کوشش کی۔ لیکن وہ تمام حکمتوں اور قابلیتوں کے باوجود ناکام رہا۔ اُس کی بنیادی وجہ یہ محسوس ہوتی ہے کہ تمام خوبیاں اور قابلیتیں اس کی شخصی تھیں، اجتماعی نہیں تھیں۔ ہندوستان کے لوگ اخلاقی طور پر بری طرح بگڑ چکے تھے سب سے بڑھ کر یہ کہ فرد اپنے ذاتی فائدے کے لیے ہر انتہا پر جانے کو تیار تھا۔ لہٰذا جہاں اجتماعی فائدے کے بجائے ذاتی فائدہ اہم بن جائے۔ اور فرد قوم کے بجائے اپنی ذات کو مقدم رکھے تو وہاں کسی دوسری قوم کو غلبے سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ اللہ کی سنت یہی ہے کہ جب کسی قوم کے مقتدر افراد قومی اور ملی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کی بداعمالی کی سزا میں تمام قوم کی قوم غلام اور محکوم بنادی جاتی ہے۔ یہی نوشتہ تقدیر ہے جسے پڑھا اور سمجھا نہیں گیا تو غلامی کی دلدل میں دھنسنا مقدر ٹھیرے گا۔