اسرائیل کی ناجائز ریاست کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا، حافظ نعیم الرحمن

308

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنے دورے سعودی عرب کے دوران مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں حالیہ اسرائیلی درندگی اوردہشت گردی کے خلاف مشترکہ اعلامیہ پیش کرنا چاہیے تھا،دوریاستی حل کا مطلب غاصب اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد بیت المکرم یونیورسٹی روڈ پر فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی غاصب افواج کی نماز جمعہ اور تراویح کے دوران مسجد اقصیٰ میں فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں 9 بچوں سمیت 20 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت اور 600 سے زائد کے شدید زخمی ہونے کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اسرائیل کی ناجائز ریاست کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا،ملک کے اندر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کرنا آئین سے غداری ہے،حماس کی تحریک،مزاحمت اور جدوجہد کی علامت ہے ان کے جذبات اورحوصلے بلند ہیں،عالم اسلام کے عوام کو سامراجی قوتوں اور سامراج کے ایجنٹوں و اآلہ کاروں سے نجات کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی جو طبقہ اشرافیہ اور حکمران ٹولے کی صورت میں ہم پر مسلط ہیں۔

مظاہرے سے جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، پاکستان میں موجود فلسطین فاؤنڈیشن کے رہنما و سرپرست مسلم پرویز نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے خیبر خیبریا یہود جیش محمد ؐ سوف یعود کے نعرے لگواتے ہوئے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ فلسطینی بچے، نوجوان، خواتین، اسرائیل کے خلاف جہاد کرکے فرض کفایہ اداکررہے ہیں اور پوری امت کو جدوجہد اور مزاحمت کا پیغام دے رہے ہیں، نہتے فلسطینی اسرائیلی بندوقوں اور گولہ باری کے جواب میں پتھر سے مقابلہ کررہے ہیں،حماس کے پاس کوئی فوجی سازو سامان اور بڑی ٹیکنالوجی موجود نہیں، ان کے راکٹ ہی اسرائیلی افواج پر ابابیل بن کر گررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ فلسطینی مسلمان شہادتیں، قربانیاں اور گرفتاریاں دے کر قبلہٌ اول کی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں،ہمارا فرض ہے کہ ان کی ہر ممکن حمایت اور پشتیبانی کی جائے اور جو کام و ذمہ داری حکمرانوں کی ہے انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے، ہمارے حکمرانوں کو اسرائیل کے خلاف بات کرنے اور توہین رسالت ؐ کے حوالے سے فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے پر ملک کی بدحال معیشت یاد آجاتی ہے،جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت کی یہ بدحالی انہی حکمران ٹولے کی وجہ سے ہے جو مسلسل ہم پر مسلط ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک کا مین اسٹریم میڈیا اسرائیل مظالم کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے اپنا وہ کردار ادا نہیں کررہا جو کرنا چاہیئے تھا،BBC,CNNاور مٖغربی میڈیا فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کو فلسطینیوں اور اسرائیلی افواج کے درمیان تصادم قراردے کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے،ہمارے میڈیاپر بھی کشمیر اور فسلطین کے حوالے سے امت مسلمہ کے احساسات و جذبات کی ترجمانی نہیں کی جارہی۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ آج بھی ماضی کی طرح اسرائیل کی سرپرستی کررہا ہے،معصوم بچوں کو شہید کرنے اور نمازیوں کو مسجد کے اندر عبادات سے محروم کرنے پر بھی اسرائیل کی مذمت نہیں کررہا۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین انبیاء کی سرزمین ہے اور اسرائیل کی ناجائز او رناپاک ریاست طاقت اور قوت کے زور پر قائم کی گئی ہے، 74سال سے مسلسل فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، انہیں بے دخل کیا جارہا ہے اور دنیا بھر سے صیہونیوں اور یہودیوں کو لاکر آباد کیا جارہا ہے اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارت کشمیریوں کی آبادی کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کشمیر میں تقریباً ڈیڑھ سال سے مسلسل لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا ہوا ہے اور کشمیریوں کو عملاً محصور کردیا گیا ہے،آج مسئلہ کشمیر اور فلسطین دنیا کے دوبڑے اور سلگتے مسائل ہیں،فلسطینیوں اور کشمیریوں کے احساسات وجذبات کے مطابق ان کو حل کیے بغیر دنیا کی امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔