مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب سے بات کریں گے: وزیر خارجہ

165

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ فلسطین سے متعلق پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے، فلسطین کی صورتحال پر سعودی عرب سے بات کریں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب میں سیکریٹری جنرل او آئی سی سے ملاقات کی۔ فلسطین سے متعلق پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے۔ فلسطین میں جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔  فلسطین کے مسئلے پر مسلم امہ کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ رات ترک وزیر خارجہ نے مجھے فون کیا۔ فلسطین کی صورتحال پر ترکی کا ایک واضح مؤقف ہے۔ ترک وزیر خارجہ مکہ میں موجودہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطین کی صورتحال پر سعودی عرب سے بات کریں گے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ اس مسئلے پر آواز اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ دورہ سعودی عرب غیرمعمولی نوعیت کا تھا۔ سعودی حکام کی دعوت پر وزیراعظم نے 3 روزہ دورہ کیا۔ پاک سعودی تعلقات پہلے بھی عمدہ تھے اب مزید تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےوژن کے مطابق سعودیہ کو مزید افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ سعودی حکام کے مطابق مستقبل میں 10 ملین ورکرز درکار ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل کا دورہ کیا۔ کل کی ملاقات کے بعد افغانستان میں امن کے بہتر امکانات پیدا ہوگئے۔ کابل میں اسکول پر حملہ بہت افسوسناک ہے، پاکستان نے بھر پور مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی واپسی کاآغاز ہوچکا ہے۔ افغانوں پر زیادہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ معاملات کو مل بیٹھ کر طے کریں۔ ہم افغانوں کےخیرخواہ ہیں، خوشحال اور خودمختار افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں امن سے پاکستان کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔ افغانستا ن میں امن طالبان اور افغان حکومت کے مفاد میں ہے۔