پاکستان پر اسرائیل کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے، وزیرخارجہ

209

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی میں فلسطینیوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہیں ،  سعودی عرب میں اسرائیل کے حوالے سے گفتگو نہیں ہوئی،  پاکستان پر اسرائیل کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے، سعودی عرب نے دباؤ کے باوجود اسرائیل پر موقف نہیں بدلا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں افغانستان کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی، سعودی عرب بھی افغانستان میں امن چاہتاہے،  سعودی عرب نے افغان امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، افغانستان میں امن سے پاکستان سمیت خطے کو فائدہ ہوگا۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے، پاکستان کا امریکا کو ہوائی اڈے دینا کا کوئی ارادہ نہیں،  پاک امریکاتعلقات میں اتارچڑھاؤ رہاہے، پاکستان نئی امریکا انتظامیہ سے بہتر تعلقات چاہتاہے، امریکا نے افغانستان میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر یو این قرار دادوں کے مطابق حل کیا جاسکتاہے، مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے، آرٹیکل 370کومقبوضہ کشمیر کی جماعتوں نے مسترد کردیا، مسلم لیگ ن کے کچھ لوگ مسئلہ کشمیر پر سیاست نہ کریں، مقبوضہ کشمیر کے تمام معاملات بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ  چاہتے ہیں کہ افغانستان اپنے مستقبل کا فیصلہ بات چیت کے ذریعے حل کرے،  پاکستان افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کررہاہے،  افغانستان میں بدامنی پھیلی تو پاکستان کو نقصان ہوگا،  افغانستان کا معاملہ مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔

 انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کے امت مسلمہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں،  قطر ، یمن اور سعودی عرب کے ساتھ معاملات میں بہتری آرہی ہے،  پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں اور رہیں گے، پاکستان چاہاتاہے کہ برادر ممالک میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔