جنوب مشرقی ایشیا میں برتری کی دوڑ

248

امریکااورروس نے54سال تک ایک دوسرے کے خلاف پوری دنیامیں پراکسی جنگ لڑی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان سردجنگ کامرکزیورپ تھاجہاں سوویت یونین مسلسل اپنے حلیف ممالک کی یونین سے علاحدگی کے حوالے سے فکرمندرہتاتھاجبکہ امریکا کویورپ میں اپنے اتحادیوں کی کمزوری کاخوف لاحق رہتاتھا۔چین اورامریکاکامقابلہ سردجنگ سے بالکل مختلف ہے۔ دونوں ممالک کی مسلح افواج کہیں بھی ایک دوسرے کے سامنے موجودنہیں ہیں۔اگرچہ تائیوان اورشمالی کوریاتناؤ کامرکزہیں اوردونوں تنازعات دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن ماہرین سمجھتے ہیں کہ چین اورامریکاکے درمیان دشمنی کامرکزجنوب مشرقی ایشیابنے گا۔ اس خطے میں تنازع کی کوئی واضح شکل موجودنہ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مسابقت مزیدپیچیدہ ہوجاتی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک امریکااورچین کودوبڑی طاقتوں کے طورپردیکھتے ہیں اوردونوں میں سے کسی ایک سے اتحاد چاہتے ہیں۔ مثال کے طورپرمیانمرمیں حالیہ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے جرنیلوں کی حمایت پرچین کے خلاف پلے کارڈاٹھارکھے ہیں جبکہ امریکا سے مداخلت کی اپیل بھی کی جارہی ہے۔ امریکااورچین سے تعلقات کے حوالے سے خطے کے ممالک دباؤکاشکارہیں۔2016ء میں فلپائن کے صدرنے امریکاسے الگ ہوکرچین سے اتحادکاکھلے عام اعلان کیاتھا۔چین کادعویٰ ہے کہ جنوبی بحیرہ چین کاپوراعلاقہ اس کاہے،جبکہ امریکااس دعوے کومستردکرتاہے توخطے کاسب سے اہم اتحاد آسیان ناراض ہوجاتاہے،چین اس اتحادپرکنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔
چین کے لیے جنوب مشرقی ایشیاکی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظرکشیدگی میں مزیداضافہ ہوگا۔یہ بالکل چین کی دہلیزہے۔ تیل،دیگر خام مال چین منتقل کرنے اورتیارمال دنیاکوبھیجنے کا تجارتی راستہ۔ چین مشرق میں جاپان،جنوبی کوریااورتائیوان جیسے مضبوط امریکی اتحادیوں سے گِھراہواہے جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں چین کے لیے حالات سازگارہیں اوریہاں سے بیجنگ کوتجارتی اور فوجی مقاصد کے لیے بحیرہ ہنداوربحرالکاہل میں رسائی ملتی ہے۔ صرف جنوب مشرقی ایشیامیں نمایاں طاقت بننے سے ہی چین اپنے دنیاسے کٹ جانے کاخوف دُورکر سکتاہے لیکن جنوب مشرقی ایشیاچین کے لیے صرف دوسرے ممالک تک جانے کاراستہ نہیں بلکہ یہ دنیاکااہم علاقہ بھی ہے،اس وجہ سے بھی امریکااورچین کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ جنوب مشرقی ایشیامیں70کروڑلوگ رہتے ہیں، جویورپی یونین،لاطینی امریکااورمشرقی وسطیٰ سے بڑی آبادی ہے۔ اس کی معیشت اگریہ ایک ہی ملک ہوتاتوچین،امریکااور بھارت کے بعددنیاکی چوتھی معیشت ہوتی۔ یہاں معاشی ترقی کی رفتاربھی کافی تیزہے۔
ایک دہائی کے دوران انڈونیشیااورملائیشیاکی معیشت میں5سے6فیصداضافہ ہوا۔ اسی طرح فلپائن اورویتنام کی معیشت6سے7فیصد تک بڑھ گئی۔خطے کے غریب ممالک جیسے میانمراورکمبوڈیابھی تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ چین سے مقابلہ کرنے والے سرمایہ کارجنوب مشرقی ایشیاکاانتخاب کررہے ہیں،یہ خطہ مینوفیکچرنگ کامرکزبن گیاہے۔ یہاں کے صارفین کی قوت خریدبڑھ چکی ہے۔ یہ خطہ اب دنیا بھر کے لیے قابلِ کشش بازاربن چکا ہے۔ تجارتی اورجیوپولیٹیکل لحاظ سے جنوب مشرقی ایشیاایک بہت بڑا انعام ہے اوردونوں حریفوں میں چین اس انعام کوزیادہ جیتنے لگاہے۔
بیجنگ اس خطے کاسب سے بڑاتجارتی شراکت دارہے اورامریکاکے مقابلے میں زیادہ سرمایہ کاری کررہاہے۔اس خطے میں امریکاکے مقابلے میں چینی برتری میں جواضافہ ہورہا ہے ،اس کے لیے امریکی میڈیااپنے اتحادیوں کے تعاون سے پروپیگنڈا وارشروع کرچکاہے جس میں وہ دہائی دے رہاہے کہ’’جنوب مشرقی ایشیائی ملک کمبوڈیاپرچین مکمل غلبہ حاصل کرچکاہے جبکہ کوئی بھی ملک کھل کرامریکاکاساتھ دینے اورچین کوچیلنج کرنے کوتیارنہیں ہے۔چین سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے تعلقات بظاہرقریبی نظرآتے ہیں لیکن یہ ممالک اس وجہ سے پریشان ہیں کہ بڑے پیمانے پرچینی سرمایہ کاری کچھ برائیاں بھی ساتھ لاتی ہے۔ چینی فرموں پراکثربدعنوانی اورماحولیات کی خرابی کاالزام عائدکیاجاتاہے۔ چینی کمپنیاں مقامی لوگوں کوروز گار دینے کے بجائے چینی باشندوں کوبلاکرملازمت دینے کوترجیح دیتی ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے معاشی فوائدکم ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی وجوہات ہیں، جن کے نتیجے میں چین کے ویتنام سے انڈونیشیاتک تمام جنوب ایشیائی ممالک سے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ویتنام میں اکثرچین مخالف فسادات پھوٹ پڑتے ہیں جب کہ سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیامیں اکثرغیرقانونی چینی باشندوں کی آمداورچین کی مسلم اقلیت سے سلوک کو لے کر مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔
خطے میں جاری پروپیگنڈا وارسے یہ توپتا چل گیاکہ امریکااپنے اتحادیوں سمیت ’’سی پیک‘‘ کے خلاف کیوں بھارت کی پرورش کررہاہے۔ خودامریکی سیاسی تجزیہ نگاریہ کہہ رہے ہیں کہ سب سے بڑھ کریہ کہ امریکاکوخطے کے ممالک کو زبردستی ساتھ ملانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس پوری صورت حال میں کسی بھی سپرطاقت کی برتری کاطوق اتارنے کے لیے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو متحد اور پرعزم رہنا ہوگا۔