اور اب بات زکوٰۃ تک پہنچ گئی

351

 

وزیراعظم پاکستان کے دورہ سعودی عرب میں بڑی کامیابیوں کی خبریںملی ہیں۔ پہلی بڑی خبر یہ ہے کہ پاکستان کو ترقیاتی فنڈ سے 75.50 ارب روپے ملیں گے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی تعاون بڑھائیں گے۔ تیسری بڑی خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کو آئندہ 10 برس میں ایک کروڑ افردی قوت کی ضرورت ہوگی جس کا بڑا حصہ وہ پاکستان سے لینے پر متفق ہوگیا ہے۔ ان خبروں کے ساتھ ساتھ یہ خبر بھی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں تمام شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ پانچ معاہدوں پر بھی دستخط ہوگئے ہیں۔ اگرچہ دیکھنے اور سننے میں یہ خبریں خوش نما اور اچھی لگتی ہے کہ پاکستان کو کچھ ملے گا۔ پاکستان کو کچھ ملنے کی خبر بہرحال اچھی خبر ہوتی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کو ملنے والی چیز کے عوض دینا کیا پڑے گا۔ اب معاملہ صرف آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا نہیں ہے۔ صرف امریکا اور یورپ یا چین کا نہیں ہے بلکہ ساری دنیا اپنے مفادات کے تابع ہے اور اپنے مفاد کے لیے ہی دوسروں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے۔ کہنے اور سننے میں یہ بہت اچھا لگتا ہے کہ سمندر سے زیادہ گہری دوستی اور آسمان کی بلندیوں کو چھونے والے تعلقات… لیکن حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتیں دوسرے ممالک سے جو معاملات طے کرتی ہیں وہ ان کو سیاہ و سفید میں تحریر کرتی ہیں کچھ سفارتی ضرورتیں، کچھ چیزیں مخفی رکھنے کا تقاضا کرتی ہیں لیکن پاکستان کے حکمران سیاسی و معاشی اور دفاعی کسی قسم کے سمجھوتوں اور معاہدوں سے قوم کو آگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہی نہیں۔ لہٰذا آج تک یہ پتا نہیں چلا کہ حفیظ شیخ آئی ایم ایف سے کیا معاملات کر گئے۔ چین سے سی پیک میں کیا ملے گا اور کس شرط پر ملے گا اس کا بھی کوئی واضح علم نہیں ہے۔ بس ایک مبہم سی چیز ہے کہ 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔ سرمایہ کون لگارہا ہے اس کے عوض کیا لے گا ادا نہ ہونے پر کیا کرے گا کچھ نہیں معلوم اسی طرح سعودی عرب سے ساڑھے 75 ارب روپے ملنے کی خبریں تو اچھی ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کیا ہے۔ کیا واقعی یہ دو دوست ممالک کا معاہدہ ہے یا پاکستان سے اس کے عوض کوئی مطالبہ کیا گیا ہے۔ خطے کی صورت حال کے تناظر میں آنے والے دنوں میں ایران سعودی عرب تعلقات گرم ترین موضوع بننے والے ہیں۔ اس طرح اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم اور فلسطینیوں کے خلاف اس کے مظالم کی نئی لہر بڑی معنی خیز ہے۔ اس تناظر میں ساڑھے75 ارب روپے اور دس سال میں لاکھوں کی افرادی قوت کی سعودی عرب میں کھپت کا اشارہ کچھ سمجھانے کے لیے کافی ہے۔ ویسے افرادی قوت کی کھپت کا جب تک باقاعدہ معاہدہ نہ ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہر کوئی بچت کرنا چاہتا ہے اور پاکستانی لیبر اور افرادی قوت کے مطالبات اب بھی زیادہ ہیں لہٰذا معاہدے سے قبل تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن پھر بھی اصل چیز تو یہی ہے کہ سعودی عرب یونہی تو التفات نہیں برت رہا ہوگا۔ اس کو پاکستان سے کیا غرض ہوسکتی ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ کوئی عالمی ایجنڈا تو نہیں ہے۔ اس دورے کی بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ ایک بری خبر بھی ہے وہ یہ کہ پاکستان نے سعودی عرب میں زکوٰۃ اور فطرہ وصول کرنے کا بھی معاہدہ کیا ہے۔ یقینا زکوٰۃ اور فطرہ غریبوں اور مستحقین کے لیے وصول کیا جائے گا لیکن اس کی جس طرح باقاعدہ تقریب کرکے پاکستان کی تذلیل کی گئی ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تیسری دنیا بلکہ افریقا کے کسی ملک کے لیے جہاں قحط پڑا ہوا ہے رقم جمع کی جارہی ہے۔ جب کہ زکوٰۃ فطرے اور خیرات کے معاملے میں تو پاکستان خود ایک بہت بڑا عطیہ کنندہ ملک ہے۔ پاکستان میں زکوٰۃ، خیرات اور فطرے کے نظام پر یورپ اور امریکا کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں کہ یہ لوگ حکومت کے کنٹرول سے الگ ہو کر اتنا بڑا خیراتی نظام چلاتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے مختلف این جی اوز زکوٰۃ اور فطرے کی بہت بڑی رقم جمع کرکے پاکستان بھیجتی ہیں جو یہاں مستحقین کے کام آتی ہے۔ اس میں کسی کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی لیکن یہاں ایسا تاثر دیا گیا ہے کہ جیسے پاکستان پر کوئی مصیبت آن پڑی ہے اور اس کے لیے زکوٰۃ فطرہ وغیرہ جمع کیا جارہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو ڈھائی سال سے زیادہ ہوچکے بلکہ تین سال ہونے کو ہیں اور یہ اب تک معیشت کو درست راستے پر نہیں لاسکی ہے۔ اب بھی ہاتھ پھیلائے اور کشکول لیے پھر رہے ہیں۔ ذرا سوال کرو کہ ایسا کیوں ہورہا ہے توسابق چور حکمرانوں والا ٹیپ ریکارڈر آن ہوجاتا ہے۔ پاکستان ایٹمی قوت ہے پاکستان کے پاس افرادی قوت ہے، پاکستان کے پاس نوجوانوں کی قوت ہے، پاکستان کے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں، زرعی ملک ہے ، ایسے ملک کی قوت کو استعمال کرنے کے بجائے حکمران ہاتھ پھیلائے گھومتے رہیں گے تو اس سے ملک کی عزت میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ ملک کی وقعت میں مزید کمی ہوگی۔ اب تو پاکستان کو اسلامی ممالک میں اور عالمی برادری میں باوقار انداز سے رہنا سیکھنا ہوگا۔ اس کام کے لیے سب سے پہلے ذہنی غلام حکمرانوں سے نجات ضروری ہے۔