بھارت غیر محفوظ ایٹمی قوت

177

پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں، دونوں ہی کے ایٹمی اثاثے ہیں اور ہتھیار بھی ہیں لیکن دنیا میں پاکستان کے ہتھیاروں کا زیادہ چرچا ہے، اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے کا شور ہے۔ امریکی کہانیاں ہیں کہ طالبان آئیں گے اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرلیں گے پھر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے دنیا کو تباہ کردیں گے، لہٰذا پاکستان کے ایٹمی ہتھیار تباہ کردیے جائیں یا تحویل میں لے لیے جائیں اور اس کا ایٹمی پروگرام رول بیک کردیا جائے۔ لیکن پاکستان نے ہمیشہ ذمے دار ایٹمی ریاست کا کردار نبھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ بھی رکھا امریکا اور مغرب نے لاکھ کوشش کرلی کہ کسی طرح ان ہتھیاروں اور اثاثوں تک رسائی حاصل کرلیں لیکن ناکام رہے۔ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والا سب سے بڑا دشمن بھارت ہے، اس کی جانب سے ہر وقت واویلا رہتا ہے۔ لیکن حال ہی میں ایک خبر نے بھارت کے اپنے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کی قلعی کھول دی۔ خبر تھی کہ بھارت میں سات کلو یورینیم رکھنے کے الزام میں 2 افراد گرفتار ہوگئے۔ ان کے پاس سے ملنے والی یورینیم کی مالیت اور وزن سے قطع نظر اس کی حساسیت ہے۔ 29 لاکھ ڈالر مالیت بھی کم نہیں ہوتی۔ بعد کی تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ اسمگلر تھے۔ گویا بھارت کا ایٹمی پروگرام خود محفوظ نہیں وہ دوسروں کے بارے میں پروپیگنڈا کرتا رہتا ہے۔ اس خبر نے عالمی برادری کے چہرے سے بھی دوغلے پن کا نقاب مزید نوچ کر پھینک دیا ہے۔ اگر یہی واقعہ پاکستان میں پیش آتا تو اب تک دنیا بھر کی تحقیقاتی ایجنسیاں پاکستان میں براجمان ہوتیں۔ سی این این اور بی بی سی چیخ رہے ہوتے لیکن بھارت کے معاملے میں چوں کی آواز بھی نہیں آئی ہے۔ دفتر خارجہ پاکستان نے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ایٹمی مواد کی حفاظت تمام ممالک کی مشترکہ ذمے داری ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ بھارت کے اس واقعے نے بھارت کو غیر محفوظ، غیر ذمے دار اور خطرناک ایٹمی ملک ثابت کردیا ہے۔