لاک ڈاؤن سے قبل بازاروں اور مارکیٹوں پر شدید رش

151

کراچی: شہر قائد میں لاک ڈاؤن سے ایک روز قبل بازاروں، مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کی دکانوں پر شدید رش کے باعث کورونا ایس او پیز کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا کی تیسری لہر اب بھی جاری ہے، عید خریداری کے حوالے سے مارکیٹوں کا سروے کیا گیا تو عید خریداری سے متعلق مختلف اشیا فروخت کرنے والے دکاندار نے بتایا کہ پچھلی عید پر کورونا کے سبب مکمل لاک ڈاؤن تھا اور بہت ہی کم دنوں کے لیے مارکیٹیں اور بازار کھلے تھے،  اسی لیے لوگوں نے محدود خریداری کی تھی۔

خیال رہے کورونا کی وجہ سے معاشی مشکلات کے سبب متوسط اور غریب طبقے کی 50 فیصد سے بھی زائد قوت خرید کم ہو گئی ہے ، زیادہ تر لوگوں کی کوشش ہےکہ وہ تیار شدہ ملبوسات اپنے اور اہل خانہ کے لیے خریدیں جس کے سبب مارکیٹوں میں رش تو بہت دیکھنے میں آر ہا ہے۔

مارکیٹوں میں اگر کوئی خاتون خریداری کے لیے آتی ہیں تو گھر کی دو سے تین خواتین ان کے ہمراہ ہوتی ہیں یہی حال لڑکوں کا بھی ہے مارکیٹوں میں خریدار کم ہیں اور گھومنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عید سے 5 روز قبل لاک ڈاؤن کے سلسلے میں مارکیٹیں اور بازار بند کر دیے گئے ہیں جس کے سبب عید سیزن کی خریداری تقریبا 30 سے 40 فیصد کم ہوگی ہے  جبکہ حکومت مارکیٹوں اور بازاروں کو عید تک کھولنے کی اجازت دینی جاہیے۔

دوسری جانب خواتین عید کے موقع پر بناؤ سنگھار کیسے کریں گی، کورونا ایس او پیز اور پابندیوں نے خواتین کو عید کی تیاریوں سے محروم کردیا ہے، عید سے قبل تمام بیوٹی پارلرز بھی بند رہیں گے۔

مقامی بیوٹیشن نے بتایا کہ حکومت سندھ کے احکامات کے مطابق 9 مئی سے بیوٹی پارلرز بند ہو جائیں گے، اس پابندی کی وجہ سے بیوٹی پارلرز کایہ عید سیزن تقریبا ختم ہوگیا ہے جبکہ بیوٹی پارلز پر کام کرنے والی خواتین کے لیے بھی یہ عید مشکل ہوجائے گی۔

واضح رہے کورونا وبا کے سبب آن لائن عیدخریداری میں اضافہ ہوگیا ہے اس حوالے سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے زریعے مرد وخواتین اپنے اوربچوں اہل خانہ کے دیگر افراد کے لیے مختلف برانڈز اور دیگر سے تیار شدہ ملبوسات، جوتے وچپلیں، منصوعی جیولری، کاسمیٹکس اور دیگر خریداری کررہے ہیں۔