معروف ادیب، شاعر اور نقّاد پروفیسر شمیم حنفی کی رحلت

165

ایک نادیدہ وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور آئے روز اموات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ معروف ادیب و نقاد شمیم حنفی بھی چند روز پہلے کورونا میں مبتلا ہوئے، انہیں نئی دہلی کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکے۔
شمیم حنفی پاک و ہند کی ادبی دنیا کے بہت بڑے آدمی تھے۔ آپ کی تصانیف اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ آپ کی تحریر اور مرتب کردہ ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘، ’’پریم چند کے منتخب افسانے‘‘، ’’کہانی کے پانچ رنگ‘‘، ’’فراق، شعر و شخص‘‘، ’’فراق، دیارِ شب کا مسافر‘‘، ’’سرسید سے اکبر تک‘‘، ’’منٹو حقیقت سے افسانے تک‘‘، ’’غزل کا نیا منظر نامہ‘‘، ’’اردو کلچر اور تقسیم کی وراثت‘‘، ’’میرا جی اور ان کا نگار خانہ‘‘، کالموں کا مجموعہ ’’یہ کس خواب کا تماشا ہے‘‘، ’’دکانِ شیشہ گراں‘‘، اور خاکوں کی کتاب ’’ہم سفروں کے درمیان‘‘، ’’اقبال کا حرفِ تمنا‘‘ ان کی چند نہایت اہم اور قابلِ ذکر کتب ہیں۔ شمیم حنفی نے تراجم کے علاوہ ڈرامے اور بچوں کے لیے بھی کہانیاں تخلیق کیں۔ آپ کو بھارت اور پاکستان کے علاوہ اردو ادب کے حوالے سے عالمی سطح پر منعقدہ تقاریب میں مدعو کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس کے علاوہ متعدد ادبی تقاریب میں شرکت کے لیے کورونا سے پہلے تک آتے رہے تھے۔
شمیم حنفی17 نومبر 1938ء کو اترپردیش کے شہر سلطان پور میں ایڈووکیٹ محمد یاسین صدیقی اور بیگم زیب النسا کے گھر پیدا ہوئے، چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں شعبہ تدریس سے وابستہ رہے۔ آپ نے مولوی مغیث الدین سے فارسی زبان سیکھی اور اردو ادب میں دلچسپی ان کے والد کی اردو، تاریخ اور انگریزی کے استاد سید معین الدین قادری سے قربت کا نتیجہ تھی۔ آپ کو زمانہ طالبِ علمی میں کئی صاحبانِ علم و فضل سے سیکھنے کا موقع ملا جن میں فراق گورکھپوری، احتشام حسین، ستیش چندر دیب جیسی شخصیات شامل ہیں۔ شمیم حنفی کی وفات معاصر اردو ادب کے لیے بڑا سانحہ ہے۔ ان کے جانے سے یقیناً ادب کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے، اور یہ خلا کئی سمتوں میں محسوس کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔