جوہری معاہدے کے امور طے کرلیے ، امریکی عہدیدار

81
ویانا: ایرانی مذاکرات کار بات چیت کے بعد ہوٹل سے جارہے ہیں

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کا کہنا ہے کہ ویانا میں ایران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے نئے دور سے قبل جوہری معاہدے سے متعلق فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہل کار کا کہنا تھا کہ ایرانی معاہدے کو بچانے کے لیے جو رعایات دی جانی ہیں، انہیں طے کر لیا گیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ویانا میں امریکی و ایرانی نمایندگان کی بالواسطہ بات چیت کا یہ چوتھا دور ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور فی الحال اس کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ نہیں سامنے آیا کہ وہ کسی سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کا خواہاں ہے۔ چوتھے دور سے قبل واشنگٹن نے بھی عندیا دیا ہے کہ مزید رعایات کی توقع نہ کی جائے ۔ اس سلسلے میں جتنی رعایت ممکن تھی دے دی، اب جوہری معاہدے کو بچانا تہران کے ہاتھوں میں ہے۔ امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ تہران نے اب تک بات چیت میں اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ وہ 2015ء میں عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کیا اقدامات کرے گا۔ امریکا اور ایران کے درمیان بدستور خلیج موجود ہے لیکن اگر ایران سنجیدگی ظاہرکرے تو پھر کوئی سمجھوتا طے پاسکتا ہے۔ ادھرامریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم اب تک نہیں جانتے کہ کیا ایران جوہری سمجھوتے کی پاسداری کے لیے سنجیدہ فیصلے کرنے کو تیار ہے۔ تاہم اس نے جوہری پروگرام کے خطرناک حصوں پر دوبارہ کام شروع کردیا ہے ۔