ایران مراکش کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے، وزیر خارجہ

166

مراکشی وزیر خارجہ  ناصر بوریٹا نے کہا ہے کہ ایران مراکشی عوام کیلئے خطرہ ہے۔

امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی ( اے آئی پی اے سی ) کے لابی گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراکشی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں اتحادیوں کی حیثیت سے ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لئے کام کو مربوط طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔

ایران کے بارے میں مراکشی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ ایران نے پولساریو ملیشیاؤں کی حمایت ، تربیت اور اسلحہ کے ذریعہ مراکش کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کو خطرہ بنایا ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران حزب اللہ کے توسط سے مغربی افریقہ میں بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے اور آج بھی ہم مراکشی عوام کی سلامتی کے لئے ایرانی خطرات کا پوری طرح سے مقابلہ کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران نے 1981 میں مراکش سے تمام سفارتی تعلقات منقطع کردیئے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ سرمہری شاہ حسن دوم کی جانب سے شاہ محمد رضا پہلوی کو سیاسی پناہ دینے کا نتیجہ تھا۔

فروری 2014 میں دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ وہ سفارتی تعلقات کو دوبارہ قائم کر رہے ہیں

2 مئی 2018 کو مراکش نے تیسری بار ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات اس وقت منقطع کردیئے جب مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریٹا نے الجیریا میں اپنے سفارتخانے اور حزب اللہ کے ذریعے علیحدگی پسند جماعت پولساریو فرنٹ کی مدد کرنے کا الزام لگایا۔