کسان کارڈ دھوکا ہے،زراعت تباہ ہوچکی ہے،علی گواریہ

147

فیصل آباد (جسارت نیوز) کسان بورڈکے ضلعی صدرعلی احمدگورایہ نے کہا ہے کہ کسان کارڈ دھوکا ہے، زراعت تباہ ہوچکی ہے، حکومت کسانوںکو دھوکے دینے کے بجائے حقیقی طور پر ریلیف فراہم کرے تاکہ ملکی معیشت بہتر ہوسکے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کرے اورکم ازکم ایک سال کا آبیانہ معاف کیا جائے ۔ آٹا اورگندم مافیا نے ملک کو یرغمال بنارکھا ہے۔ کسانوں سے گندم کا دانہ دانہ خریدنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ بارشوں اور شدید آندھی نے گندم کی تیار فصل کو سخت نقصان پہنچایا ہے،دھان کی فصل کے لیے کسانوں کو مفت بیج کھاد اور ادویات دی جائیں،زرعی مشینری کے لیے آسان اقساط پر بلا سود قرض دیے جائیں تاکہ تباہ حال کسان اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں۔شوگر ملز مالکان کسانوں سے کیے گئے وعدے پورے کریں اور ان کے بقایا جات فوری ادا کیے جائیں۔ملک کا کسان اور مزدور خوشحال ہوگا تو ملک ترقی کرے گا۔انہوںنے کہا کہ موجودہ حالات نے کسان کو سب سے زیادہ پریشان کردیا ہے۔حکومت کورونا امدادی پیکج میں کسانوں کو بھی شامل کرے۔ پورے ملک میں گندم کی کٹائی کا آغاز ہو چکا ہے مگر کورونا جیسی مہلک آفت سے کسانوں کو بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہیں۔ موجودہ حالات میں کسانوں کو درپیش مسائل فوری طور پر حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔ کسانوں کو فوری طور پر حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور گندم کو سمیٹنے میںا ن کی مدد کی جائے۔گندم ہمارے ملک کی فوڈ سیکورٹی کے لیے بہت اہمیت کی حامل اور کسان کے لیے سب سے بڑی کیش کراپ ہے۔ حکومت کسان سے گندم کے آخری دانے تک خریداری کا بندوبست اورکسانوں سے گندم 1800روپے فی من کے حساب سے خریداری یقینی بنائے۔ ملک میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے زراعت کے لیے کسانوں کے نمائندوں کی مشاورت سے زرعی پالیسی کا اعلان کیا جائے۔ 12 سو ارب امدادی رقم میں سے کسانوں کو بھی ان کا حصہ دیا جائے۔ شوگر ملز مافیا سے رواں اور سابقہ برسوں کی گنے کے کاشتکاروں کی رقوم فوری طور پر دلائی جائیں۔