فرانس میں حجاب پر مجوزہ پابندی کیخلاف احتجاج

111

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس میں حجاب پر مجوزہ پابندی کے خلاف مسلمان خواتین میدان میں آگئی ہیں اور انہوں نے ایک آن لائن مہم شروع کردی ہے۔ 16 سالہ مسلمان لڑکی مریم چورک کا کہنا ہے کہ حجاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت کا اظہار ہے، لیکن فرانسیسی سینیٹرز کی تجویز انہیں عوامی سطح پر حجاب پہننے کی آزادی سے محروم کر سکتی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق فرانس کی نام نہاد سیکولر اقدار کو مستحکم کرنے کے لیے تیار کردہ انسداد علاحدگی پسندی بل میں ترمیم کی گئی ہے، جو 18 سال سے کم عمر لڑکیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اس بل پر مسلمان خواتین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں آن لائن ہینڈز آف مائی حجاب کے ہیش ٹیگ سے فرانس سمیت اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ مریم کا کہنا ہے کہ یہ میری شناخت کا حصہ ہے۔ مجھے اس کو ہٹانے پر مجبور کرنا تضحیک آمیز بات ہوگی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انہیں اس امتیازی سلوک کا حامل بل منظور کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ مذہبی مقامات اور مذہبی علامتوں کے حوالے سے سیکولر ملک فرانس ایک عرصے سے تنازعات کا شکار ہے اور یورپ کی سب سے بڑی مسلمان اقلیت فرانس میں ہی رہایش پذیر ہے۔ فرانس نے 2004ء میں سرکاری اسکولوں میں اسلامی اسکارف پہننے پر پابندی عائد کردی تھی۔ 2010ء میں اس نے گلیوں، پارکوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور انتظامی عمارتوں جیسے عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ یہ ترمیم تمام مذہبی علامتوں کے لیے تھی، لیکن مخالفین کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ متعصب سینیٹر کرسچن بلہاک کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نوجوانوں کی حفاظت ہو گی۔ انہوں نے ایوان بالا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ والدین کو اپنے بچوں پر یہ پابندیاں عائد نہیں کرنی چاہیں۔ نوجوان خواتین کا ایک گروپ اپنے کے رہایشی کمروں سے حجاب پر ممکنہ پابندی کے خلاف ہینڈز آف مائی حجاب کے ہیش ٹیگ سے مہم چلا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر حمایت حاصل بھی کر لی ہے۔