برطانیہ اور بھارت میں ماہرین کو ملازمتیں دینے کا معاہدہ

74
لندن: برطانوی وزیر داخلہ پریٹی پٹیل اور بھارتی وزیر خارجہ جے شکر دستاویز کا تبادلہ کررہے ہیں

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے3 ہزار پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کو ہر سال اپنے اپنے یہاں ملازمت کے مواقع فراہم کریں گے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد بھارت اور برطانیہ نے اقتصادی، ثقافتی اور دیگر تعلقات کو مستحکم کرنے کے معاہدوں پر منگل کے روز دستخط کیے۔ دونوں ممالک نے غیر قانونی مہاجرت کے خلاف کارروائی کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے برطانوی ہم منصب بورس جانسن کے ساتھ ورچوئل میٹنگ میں باہمی دلچسپی کے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار سندیپ چکرورتی نے بتایا کہ مہاجرت اور نقل وحرکت سے متعلق ہونے والے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ اپنے یہاں ہر برس 3 ہزار نوجوان بھارتی ماہرین کو ملازمت فراہم کرے گا۔ بھارت بھی اسی طرح اپنے یہاں 3 ہزار برطانوی نوجوانوں کو ملازمت دے گا۔ تاہم دونوں حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے اس تعداد میں کمی بیشی کرسکتی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 18 سے 30 برس کی عمر کے ہونہار اور بہترین افراد کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر برطانیہ اور بھارت میں ملازمت کا موقع حاصل ملے گا۔ تاہم اس کے لیے یہ شرط ہوگی کہ انہوں نے متعلقہ ممالک میں یونیورسٹی یا اس کے مساوی کسی ادارے میں کم از کم 3 برس تک تعلیم یا تربیت حاصل کی ہو اور وہ میزبان ملک میں بولی جانے والی زبان میں اظہار خیال کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس اسکیم کے تحت ملازمت حاصل کرنے والے افراد کو اپنے ساتھ اپنے بچوں یا کسی دیگر رشتہ دار کو رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ تاریخی معاہدہ ہمیں اور ہمارے قریبی شریک بھارت کو دونوں ممالک میں رہنے کے خواہش مند ہزاروں افراد کو بھیجنے کا موقع فراہم کرے گا۔