ملیر میں کتا مارمہم شروع سینکڑوں کتوں کو زہر دیکر ماردیاگیا

254

کراچی(اسٹاف رپورٹر) شہر میں آوارہ کتوں کی بھر مار، سگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عدالت کے احکامات کے بعد شہر قائد میں 2سال بعد کتا مار مہم کا آغاز بلدیہ ملیر سے ہوگیا ہے۔

آخری بار کتا مار مہم 6 نومبر 2019 میں چلائی گئی تھی جس بلدیہ شرقی نے چلائی تھی اس مہم میں گلشن اقبال اور جمشید زون سے سیکڑوں آوارہ کتے زہر دے کر مار دیے گئے تھے تاہم اس مہم پراین جی اوز نے پابندی لگوادی تھی جس کے باعث بلدیاتی ادارے جو پہلے ہی کتے مارنے میں کوتاہی کے مرتکب تھے انہیں ایک بہانہ مل گیا کہ کتے مارنے پر پابندی ہے۔

عدالتی پابندی کے بعد کراچی حیدر آباد، سکھر اور لاڑکانہ میں سگ گزیدگی کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے اور عدالتوں کو اصل صورتحال کی نشاندہی کرائی گئی تو عدالتوں نے خود ہی کتوں سے شہریوں کو نجات دلانے کا حکم جاری کردیا ہے۔

شہر میں بلدیہ ملیر نے 6 ڈی ایم سیز میں سب سے پہلے کتا مار مہم کا آغاز کر دیا گیاہے،اس حوالے سے بلدیہ ملیر کے میونسپل کمشنر ریاض کھتری نے کہا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ڈی ایم سی ملیر نے 200کے لگ بھگ آوراہ کتے ٹھکانے لگائے ہیں،ملیر میں جہاں جہاں زیادہ شکایات ہیں وہاں ترجیحی بنیاد پر کام کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کو کتوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ایم سی ملیر ریاض کھتری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر سالڈ ویسٹ کو ہدایت دے دی ہیں کہ کتا مار مہم کو جدید تقاضوں کے تحت عمل میں لایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ نمبر جاری کیا جائے جس پر شہری آوارہ کتوں کی شکایت درج کرا سکیں اور اس پر فوری کارروائی کی جائے۔ریاض کھتری نے بتایا کہ متاثرین اور ملیر کے رہائشی آوارہ کتوں کے حوالے سے اپنی شکایات واٹس اپ نمبر03117167976پردرج کرا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی ہے کہ ہر شکایت پر جلد ازا جلد 24 گھنٹوں میں کارروائی عمل میں لائی جائے۔ریاض کھتری کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کے خلاف مہم اسی طرح بھر پو انداز میں آئندہ 8 روز جاری رہے گی اور مہم کے بعد بھی مذکورہ واٹس ایپ نمبر پر اگر کوئی شہری شکایت کرے گا تو اس پر کارروائی کی جائے گی۔