تاجر برادری کا کاروباری اوقات میں رات 12 بجے تک توسیع کا مطالبہ

80

کراچی/اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ نمائندہ جسارت) چھوٹے تاجروں نے گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت کی وجہ سے دن میں محدود خریداری سرگرمیاں بڑھانے کیلیے کاروباری اوقات میں 12 بجے شب تک توسیع کا مطالبہ کردیا ہے۔ دوسری جانب مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری نے مسلسل 9 روزہ لاک ڈاؤن اور عید الفطر کی تعطیلات کے این سی او سی کے اعلان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید کی تعطیلات 12 سے 15 مئی تک دی جائیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ٹیکسٹائل پلازہ کی تھوک کپڑا مارکیٹ کے صدر رانا محمد اکرم نے کہتے ہیں کہ محدود کاروباری اوقات اور شہر کا درجہ حرارت بڑھنے سے نہ صرف تاجروں کی فروخت 30 تا 40 فیصد تک محدود ہوگئی ہے اور یومیہ اجرت پر کام والے ورکرز کی بڑی تعداد روزگار سے بھی محروم ہوگئی ہے، حکومت رات12 بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت دے ،تاجر برادری کورونا ایس او پیز کی پاسداری کی یقین دہانی کراتی ہے۔اکرم رانا نے بتایا کہ رمضان المبارک میں گارمنٹس سمیت دیگر پراڈکٹ کا سال میں صرف ایک ماہ ہی سیزن ہوتا ہے، کاروباری اوقات کار محدود ہونے اور ہفتے میں 2 سے 3دن مارکیٹس بند ہونے سے کاروبار کو بے حد نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ لاک ڈاؤن کے اثرات سے تاجر برادری تا حال سنبھل نہیں پائی، پہلے بھی لاک ڈاؤن اور بارش کی تباہ کاری سے اربوں کا نقصان ہوا ہے اور اب کاروباری اوقات کار میں کبھی مارکیٹوں کو سیل کرنے سے تاجروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔علاوہ ازیںمر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری نے مختلف مارکیٹوں اور چیمبر کے عہدیداران کے نمائندہ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل 9 روزہ لاک ڈاؤن اور عید الفطر کی تعطیلات کے این سی او سی کے اعلان کو یکسر مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس سے تاجر برادری بالخصوص برآمد کنندگان کے لیے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوں گے، مسلسل تعطیلات کی وجہ سے معیشت اور کاروبار کو شدید نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا، حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے عید کی تعطیلات کا اعلان 12 سے 15 مئی تک کرنا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ محدود کاروباری اوقات کے باعث ملک کی تاجروصنعتکار برادری کو پہلے ہی شدید مالی نقصانات کا سامنا ہے جبکہ مسلسل 9 روز تک بینکاری خدمات اور بندرگاہوں کی سرگرمیاں معطل ہونے سے تجارت، صنعت، کاروبار اور معیشت کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ یومیہ اجرت پر روزی روٹی کمانے والوں کا روزگار بھی متاثر ہو گا۔