بھارت : ڈاکٹر کورونا بحران سے تنگ ، خود کشی کرنے لگے

96

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کورونا بحران کے باعث دباؤ کا شکار ڈاکٹر خودکشی کرنے لگے ہیں۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کورونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں میں ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر غیر معمولی حالات میں مسلسل کام کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کے ایک نجی اسپتال کے آئی سی یو میں کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ایک 35سالہ ڈاکٹر نے گزشتہ دنوں خودکشی کرلی۔ وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ ڈاکٹروں کی ملک گیر تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق کورونا کی وجہ سے بھارت میں اب تک تقریباً 750ڈاکٹروں کی موت ہو چکی ہیں، جب کہ نیم طبی عملے کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔ کورونا کی دوسری لہر سے پیدا شدہ بحرانی صورت حال کی وجہ سے ڈاکٹروں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ انہیں بالعموم مسلسل پندرہ دنوں تک ڈیوٹی کرنا پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتہ داروں سے دور ہو جاتے ہیں اور اکیلا پن محسوس کرتے ہیں۔ آکسیجن جیسی ضروری اور دیگر طبی ساز و سامان کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو بے بسی کے عالم میں مرتے ہوئے دیکھ کر ڈاکٹر خود بھی ذہنی تناؤ میں آجاتے ہیں۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر راجن شرما نے کا کہنا کہ ڈاکٹروں کو آرام نہیں مل رہا ہے۔ ان کے لیے کوئی پروٹوکول نہیں ہیں۔ ڈاکٹر تھکان محسوس کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کورونا سے سب سے زیادہ متاثر بھارت میں نئے کیسوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آنے والے ہفتے ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق منگل کے روز ملک میں مزید ساڑھے 3 لاکھ سے زیادہ کیس سامنے آئے، جس کے بعد کیسوں کی مجموعی تعداد 2کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ کیسوں کی حالیہ تعداد گزشتہ 3 ماہ کے دوران سامنے آنے والے کیسوں کی تعداد کا دو گنا ہے، جب کہ اموات کی مجموعی تعداد بھی 2لاکھ 20 ہزار سے زائد ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت میں کورونا کیسوں کی حیران کن اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ امریکا کے براؤن یونی ورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ڈین ڈاکٹر آشیش جھا کا کہنا ہے کہ وہ جن بھارتی ذمے داران سے رابطے میں تھے، وہ پُرامید ہیں کہ آیندہ چند ہفتوں روز کے دوران صورتِ حال معمول پر آجائے گی۔