دنیا بھر میں طبی عملے پر حملوں میں اضافہ ہوا‘ ریڈکراس

36

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ریڈ کراس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 5 برس قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کے بعد بھی صحت عامہ کے نظام اور صحت کی دیکھ بھال پر مامور کارکنان اور مریضوں پر ہزاروں کی تعداد میں حملے جاری رہے ہیں۔ 5 برس قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی جانے والی اس قرار داد میں متنازع علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ کارکنان کے خلاف قتل، زیادتی اور جسمانی حملوں کے واقعات کے خلاف تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا، اور ایسے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے 2016ء سے 2020ء کے عرصے میں 33 ممالک میں سالانہ 3780 حملے ہونے کی رپورٹ دی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان میں سے دو تہائی حملے افریقا اور مشرق وسطیٰ میں کیے گئے، جس میں افغانستان، جمہوریہ کانگو، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینیعلاقے اور شام شامل ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایسے حملوں کی اصل تعداد کمیٹی کے پیش کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے تنظیم نے کہا ہے کہ دراصل متنازع علاقوں میں اعداد و شمار کو اکٹھا کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کووڈ کی وبا کی صورت حال کے دوران بھی ان حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔