وبائی بحران عالمی کیسے بنا

773

عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی سرخیل معیشتوں کی خصوصیات کی وجہ سے وبائی بحران عالمی ہو گیا ہے۔ یہ ترقی یافتہ پیداواری اور سرمایہ کارانہ انجماد کا شکار ہیں۔ اس انجماد کو ختم کرنے لیے وہ اپنے قرضوں میں ہوش ربا اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کا انحصار بیرونی ترسیل دولت پر بڑھتا جا رہا ہے۔ تقسیم دولت اور آمدنی میں نامساویت کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے (2020 میں تین امریکی کھرب پتیوں کی دولت 50 فی صد امریکی آبادی سے زیادہ تھی)۔ ماحولیاتی ابتری کی روک تھام کے لیے موثر اقدام کرنے سے وہ قاصر ہیں۔ غریب ممالک کی حکومتیں ان کی باجگزار ہیں۔ ان حالات میں عالمگیریت کا عمل وباؤں کے پھیلاؤ کو ناگزیر بنا رہا ہے۔ وبائی بحران سائنس، پیداواری ٹیکنالوجی اور ملٹی نیشنل اور حرام خور (فنانشل) کارپوریشنوں کی ایجاد ہے۔ انہوں نے پوری دنیا کو ایک سرمایہ دارانہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بنا دیا ہے۔ یہ ملٹی نیشنل کارپوریشنیں قدرتی وسائل کی لوٹ مار پر تلی ہوئی ہیں۔ وبائی بحران سرمایہ دارانہ سامراج کی پیداوار ہیں۔ اس نظام نے انسانی اجسام، زمین، جانوروں اور قدرتی وسائل سب کو بڑھوتری سرمایہ کا آلہ کار بنا دیا ہے اور ان تمام اشیا کے استعمال کا مقصد حرص و حسد کی تسکین ہے۔ جاہلی علمیت (سائنس اور سوشل سائنس) حرص اور حسد کی آلہ کار ہے اور کیمیائی اور ادویاتی اختراعات نئے نئے مہلک جراثیم کی افزائش نسل کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ یہ اختراعات بڑھوتری سرمایہ کو مہمیز دینے کی غرض سے مستقلاً جاری ہیں۔ لہٰذا ہم توقع رکھتے ہیں کہ جب تک عالمی سرمایہ دارانہ غلبہ قائم رہتا ہے نئی نئی وبائیں پھوٹتی رہیں گی۔ یہ وبائیں سرمایہ دارانہ نظاماتی بحرانوں کا محض ایک رخ ہیں۔
ہم کیا کریں: ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ فی الحال ہماری قوت نافذہ نہایت محدود ہے۔ ہم سرمایہ دارانہ مراکز قوت پر اثرانداز ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ملکی پالیسیوں کی تفویض اور تنصیب میں بھی ہمارا وزن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود مندرجہ ذیل اقدام کی گنجائش موجود ہے۔ سب سے پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام کی جزوی اصلاح کی کوششیں ترک کر دیں۔ یہ نظام اپنے اصل الاصول کے لحاظ سے شر محض ہے اور اس کی اساسی علمیت سائنس اور سوشل سائنس جاہلیت خالصہ ہے۔ اس کی اصلاح ناممکن اور اس کا انہدام ضروری ہے۔ لیکن ہم یہ انہدامی عمل سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہی سے جاری رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ سرمایہ داری کا کوئی ایسا بیرون موجود نہیں جہاں سے سرمایہ دارانہ غلبے کو موثر طور پر چیلنج کیا جا سکے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی جدوجہد لازماً اس نظام کے اندر ایک غیرسرمایہ دارانہ معاشی، معاشرتی اور سیاسی اداراتی صف بندی کی شکل اختیار کرے گی۔ اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو لازماً اسلامی تہذیب سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی میں ویسے ہی جذب ہو جائے گی جیسے عیسائیت، یہودیت اور ہندومت جذب ہو گئی ہیں۔
سرمایہ دارانہ انہدام کی اسلامی جدوجہد ایک طویل المدت جدوجہد ہے۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کئی ناختم ہونے والے بحرانوں (ماحولیاتی، معاشرتی، معاشی اور وبائی) کا شکار ہے۔ اور اس کے نظاماتی تضادات گہرے سے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں ان تضادات کو مہمیز دے کر اسلامی انقلابی جدوجہد کو وسعت دینے کی گنجائش پیدا کرنی ہے۔ وبائی بحران انہی تضادات کا ایک اہم مظہر ہے اور کورونا کے خاتمہ کے بعد نئے نئے وبائی بحران ملٹی نیشنل کارپوریشنیں اور سرمایہ دارانہ حکومتیں سائنس کی مدد سے ایجاد کرتی رہیں گی۔ ہمیں اس حقیقت کو قبول کرلینا چاہیے کہ ہم سرمایہ داری کے بحرانی دور میں اپنی تحریک چلا رہے ہیں۔ وبائی بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی رسدی زنجیروں سے اپنے پیداواری اور ترسیلی نظام کی وابستگی کو قطع کیا جائے۔ یہ کرنے کے لیے ہمیں حلال کاروبار کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسا کاروبار جو علاقائی ہو اور جس کا بین الاقوامی رسد یا مانگ یا قرضہ جات پر انحصار نہ ہو۔ یہ کام ایک اسلامی تمویلی نظام کو مرتب کر کے کیا جا سکتا ہے۔
ملکی سطح پر اسلامی جماعتیں اس بات پر زور دے سکتی ہیں کہ وباؤں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ملک بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری، قرضہ جات اور بھیک پر انحصارکرنا چھوڑ دے۔ آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی او سے
نکل جائے اور بین الاقوامی زنجیروں سے تعلق توڑ کر خودکفیل معاشی پالیسیاں اختیار کرے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کے سامراجی پٹھو حکمران اس قسم کی پالیسیاں کبھی اختیار نہیں کریں گے۔ لیکن کم از کم ان بے شرم اسلام پسندوں پر دباؤ تو ڈالا جا سکتا ہے جو آج دہریہ تحریک انصاف کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ اس قسم کا دباؤ لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں نیولبرل پالیسیوں کے انہدام کا ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ چھوٹے کاشت کاروں اور ہاریوں کو ایگری بزنس کی پنجاب، سندھ اور پختونخوا میں زرعی زمینوں پر تسلط حاصل کرنے کے خلاف منظم کیا جا سکتا ہے۔ سی پیک کے تحت جو زرعی سرمایہ کاری کی اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں اور چھوٹے کاشت کاروں اور زرعی محنت کشوں کی بے دخلی کے جو منصوبے بن رہے ہیں ان کی منظم مخالفت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ منصوبے ہماری زرعی معیشت کو انہی عالمی رسدی زنجیروں میں جکڑنے کا ذریعہ بنیں گی جن کی وجہ سے وبائیں پھیلتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زرعی معیشت اور معاشرت پر اسلامی جماعتوں (اس کے باوجود کہ ہماری ایک مقبول عام جماعت تحریک لبیک کی عوامی بیس دیہی ہے) نے کبھی توجہ نہیں دی۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلامی جماعتیں دیہی معاشرت، معیشت اور سیاست پر جامع تحقیق کی بنا پر کاشت کاروں اور ہاریوں کو منظم اور متحرک کرنے کی ایک طویل المدت حکمت عملی مرتب کریں۔ لاطینی امریکی تجربات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کچی آبادیوں میں بجلی، پانی اور نکاسی غلاظت کو حکومت اور سرمایہ دارانہ کمپنیوں کی اجارہ داری سے نکال کر عوامی تحویل میں منظم کرنے سے ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ کچی آبادیوں میں اس قسم کی ادارتی صف بندی کا کام بھی اسلامی جماعتوں کو شروع کر دینا چاہیے اور اس سے وباؤں کے پھیلاؤ کی روک تھام پر مثبت اثرات بھی پڑیں گے اور گاہے گاہے ایک غیر سرمایہ دارانہ اقتداری نظام بھی قائم ہوتا چلا جائے گا۔
وباؤں کے پھیلاؤ کا ایک بنیادی ذریعہ ایلوپیتھک میڈیسن اور فارمیسی کی صنعت ہے۔ اس کے ذریعہ نئے نئے مہلک جراثیم مستقلاً پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ایلوپیتھک میڈیسن اور فارمیسی کی صنعت کی نظاماتی اجارہ داری کو دیسی طب اور طب نبوی کے فروغ سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں چین کا تجربہ چشم کشا ہے۔ چینی میڈیسن 2003 کے سارس وبائی بحران کے دور میں نہایت کامیابی سے استعمال کی گئی۔ 2020 میں تقریباً 85 فی صد چینی کورونا کے مریض چینی میڈیسن کے استعمال سے صحت یاب ہوئے اور 95 فی صد مریضوں نے چینی میڈیسن استعمال کی۔ مجھے یاد ہے کہ 1990 کی دہائی میں جماعت اسلامی نے حکیموں کی خصوصی حوصلہ افزائی کی تھی۔ آج بھی اسلامی جماعتوں کو حکمت کے فروغ کے لیے عوامی جدوجہد مرتب کرنی چاہیے۔ سائنس جاہلیت خالصہ ہے اور مادی بحرانوں خواہ ماحولیاتی خواہ وبائی کا سرچشمہ سائنسی اختراعات ہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے مدارس سائنس کا متبادل پیراڈائم مرتب کرنے کی کوشش کریں۔ ایک ایسا پیراڈائم جو تسخیر کائنات کے باطل نظریہ کو رد کرے اور انسانی معاش و معاشرت کو قدرتی نظام کے تغیرات سے ہم آہنگ کر دے۔ مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ نے اپنی بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب سائنس اور علم کلام میں بیسویں صدی کی ابتدا میں یہ کام شروع کر دیا تھا۔ آج ہمیں نبی کریمؐ کی پیروری کرتے ہوئے اس کام کو آگے بڑھانا ہے اور یہ سرمایہ داری کے خلاف ہماری صدیوں تک جاری رہنے والی جدوجہد کا ایک کلیدی حصہ ہو گا۔