کورونا… عید شاپنگ اور عشرئہ اعتکاف

151

کورونا کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں اور اِدھر عید بھی سر پہ آن کھڑی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ لاک ڈائون سے پہلے پہلے عید کی خریداری کرلیں کیوں کہ حالات پورے ملک میں لاک ڈائون کی طرف جارہے ہیں۔ حکومت عید کے موقع پر ایک ہفتے کی چھٹیاں دینے کا فیصلہ کرچکی ہے تا کہ لاک ڈائون کے دوران لوگ گھروں میں رہ کر عید منائیں اور تفریحی مقامات کا رُخ کرنے سے گریز کریں۔ یہ ساری پیش بندیاں اپنی جگہ لیکن کیا ان کے ذریعے کورونا کی رفتار کو روکا جاسکے گا؟ ہمیں یاد ہے کہ پچھلے سال بھی کچھ ایسی ہی صورت حال تھی، حکومت عوام سے ایس او پیز کی سختی سے پابندی کا مطالبہ کررہی تھی لیکن جب عید کی خریداری کے لیے بازاروں میں رش پڑا تو ساری احتیاطی تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں۔ ریڈی میڈ گارمنٹس اور جوتوں کی دکانوں پر وہ ہجوم تھا کہ خدا کی پناہ۔ دکانداروں نے بعد میں بتایا کہ انہوں نے عید کی شاپنگ کے موقع پر وہ سارا خراب مال بھی آسانی سے نکال دیا جس کا عام حالات میں فروخت ہونا مشکل تھا۔ ایک سروے کے مطابق لوگوں نے تین دن کے دوران ایک کھرب یعنی سو ارب سے زیادہ کی شاپنگ کی تھی۔ ایک دوست کہہ رہے تھے کہ اب کی دفعہ بازاروں میں زیادہ رش نہ ہو کہ لوگ سمجھدار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے عید کی شاپنگ رمضان کے آغاز ہی میں کرلی تھی۔ یوں بھی ایس او پیز کی پابندی کے لیے فوج بھی طلب کرلی گئی ہے۔ ایک فوجی جوان دس پولیس اہلکاروں پر بھاری ہوتا ہے۔ بازار میں ایک فوجی بھی ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ بہرکیف اب کی دفعہ عید بہت سے اندیشوں اور وسوسوں میں گھری ہوئی ہے۔ اللہ خیر کرے۔
ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں تو کورونا نے قیامت برپا کر رکھی ہے۔ مردوں کو جلانے کے لیے شمشان گھاٹ کم پڑ گئے۔ پارکوں اور کھیل کے میدانوں کو شمشان گھاٹوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھارت میں جو کورونا وائرس پھیل رہا ہے وہ انتہائی مہلک ہے وہ اپنے مریض کو دو دن کی بھی مہلت نہیں دیتا اور اپنے ایک ہی وار سے مریض کے دماغ کو مفلوج کردیتا ہے۔ تاہم اس شر سے خیر یہ برآمد ہوا ہے کہ متعصب ہندوئوں کی مسلمان دشمنی اس وبا کی نذر ہوگئی ہے۔ آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند ہندو جماعتیں بھی وقتی طور پر مسلمانوں کے خلاف ٹھنڈی پڑ گئی ہیں۔ عام ہندو مسلمانوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ اللہ سے اس وبا کے خاتمے کی دُعا کریں۔ بعض مقامات پر ہندو اور مسلمان مل کر کلمہ طیبہ کا ورد کررہے ہیں اور اللہ سے رحم کے لیے گڑگڑا رہے ہیں۔ خود مسلمانوں کا رویہ بھی ہندوئوں کے حق میں بہت خیر خواہانہ ہے جو مسلمان اصحاب ثروت ہیں انہوں نے کورونا کے مریضوں کے لیے صحت کے مراکز قائم کردیے ہیں جہاں بلا امتیاز سب کا علاج ہورہا ہے۔ کورونا نے بھارت میں شدت پسندی سے ماورا انسانی ہمدردی کی فضا پیدا کردی ہے جو کبھی ’’مسلم برصغیر‘‘ کا خصوصی امتیاز ہوا کرتی تھی۔ ہمارے بزرگ بتاتے تھے کہ برصغیر کی تقسیم سے قبل ہندو مسلم معاشرے میں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا حد درجہ احترام کیا جاتا تھا۔ رمضان کے روزے تو مسلمان رکھتے تھے لیکن پورا شہر رمضان کے رنگ میں رنگ جاتا تھا۔ ہندو، سکھ یا عیسائی سب رمضان کا احترام کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو افطار پارٹیاں دیتے اور روزہ داروں کے لیے اشیائے صرف کی قیمتیں کم کردیتے تھے۔ عید کی خوشیاں بھی وہ مسلمانوں کے ساتھ سانجھی مناتے تھے۔ کاش کورونا بھارت سے مسلمان دشمنی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردے اور وہی ماحول واپس آجائے جو کبھی دہلی، لکھنؤ، کانپور، بنارس اور دیگر شہروں میں ہوا کرتا تھا۔
خیر ذکر ہورہا تھا اپنے ملک میں کورونا کی صورت حال کا کہ درمیان میں بھارت کا ذکر بھی آگیا کہ بھارت میں مسلمان ابھی تک پاکستان بنانے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ چلیے اب پھر اپنی باتیں کرتے ہیں۔ رمضان کے دو عشرے گزر گئے اب تیسرا اور آخری عشرہ جاری ہے۔ اسے عشرئہ اعتکاف بھی کہتے ہیں۔ اعتکاف اللہ کے رسولؐ کی سنت ہے۔ آپؐ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد میں معتکف ہوجاتے اور پوری دنیا سے ناتا توڑ کر اللہ کی یاد میں منہمک ہوجاتے۔ دنیا بھر کے مسلمان بھی اس سنت رسولؐ پر بڑے اہتمام سے عمل کرتے ہیں۔ مسجدیں معتکفین سے بھر جاتی ہیں اور ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن سے فضا معمور ہوجاتی ہے۔ اسی عشرے میں لیلتہ القدر بھی ہے وہ رات جسے قرآن نے ایک ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ اس رات کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یعنی طاق راتوں میں معمول سے بڑھ کر شب بیداری کی جائے اور اللہ کا فضل تلاش کیا جائے۔ گزشتہ سال تو کورونا کا اتنا خوف تھا کہ لوگوں نے تراویح بھی گھروں میں ادا کی تھی اور مسجدیں نمازیوں اور معتکفین سے خالی پڑی تھیں۔ اب کی دفعہ اگرچہ کورونا کی شدت زیادہ ہے، یومیہ ہلاکتوں کا گراف بھی بہت بلند ہے لیکن دلوں میں وہ خوف نہیں ہے جو پچھلے سال تھا۔ اب کی دفعہ مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی ہیں، بوڑھے اور جوان اور بچے سب آرہے ہیں اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہورہے ہیں۔ معتکفین میں بھی جوانوں کی خاصی تعداد ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم قبلہ ایاز نے البتہ نمازیوں سے اپیل کی ہے کہ جنہیں نزلہ، زکام، کھانسی یا بخار ہے وہ مسجد میں آنے کی زحمت نہ کریں۔ یہ ایک معقول بات ہے جس پر سب کو توجہ دینی چاہیے۔