وزیراعظم حقائق نہ جھٹلائیں

189

وزیراعظم پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ختم نبوت قانون پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔ جی ایس پی پلس معاہدے کا ناموس رسالت قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم یورپی یونین کے تحفظات دور کریں گے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے جس ڈھٹائی سے غلط بیانی کی ہے وہ انتہا سے زیادہ ہے اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ یہ خبر تمام ہی اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد منظور کرکے یہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ جی ایس پی پلس کے بارے میں ناموس رسالت قانون کے استعمال سے متعلق پاکستان کی کیفیت کا جائزہ لیا جائے۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے اس کا کھلا مطالبہ نہیں کیا ہے لیکن اس کا واضح اور صاف صاف تعلق جی ایس پی پلس سے ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ہر معاملے کو توہین رسالت قرار نہ دیا جائے اور اس معاملے میں تشدد کو روکا جائے یہ حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے، ٰیہ حقیقت ہے کہ پاکستانی حکومت ایسا ہی کرتی ہے لیکن پاکستان میں غیر ملکی ایجنٹ اور یورپ اور ڈالروں کے پجاری تشدد کی آگ بھڑکانے کا موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن یہ جھوٹ ہے کہ ہر واقعے کو توہین رسالت قرار دیا جاتا ہے اس کا ایک پورا نظام ہے اور اس کی چھان پھٹک کے بعد توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ تشدد کا عنصر اس وقت آتا ہے جب حکومت ڈالروں پر پلنے والی این جی او اور غیر ملکی ایجنٹ نام نہاد ٹی وی دانشور توہین رسالت کا ارتکاب اور اعتراف کرنے والے کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے بجائے الٹا مقدمہ دوسروں پر درج کرواتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ردعمل تو ضرور ہوگا۔ وزیراعظم اس غلط فہمی کو دماغ سے نکال لیں کہ لوگ اب کچھ نہیں جانتے۔ جب سے پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے اور قادیانیوں، توہین رسالت کرنے والوں اور دین بیزار لوگوں کی بن آئی ہے۔ وہ جب جہاں چاہتے ہیں اپنی حرکت کر گزرتے ہیں ایسے میں عوام بہت ہوشیار ہو گئے ہیں۔ حتیٰ کہ اب تو یقین سے یہ کہا جاسکتا ہے کہا ٓئین کی دفعہ 295 سی کو حکومتی اور اپوزیشن اراکین سے زیادہ عوام جانتے ہیں۔ اس کی ایک ایک شق کو غور سے پڑھ چکے ہیں۔ کیونکہ جب بھی توہین انبیا یا دین کی توہین کی جاتی ہے حکمران نت نئی توجیح پیش کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اب عمران خان نے بڑے اعتماد سے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا توہین رسالت کے قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ یہ بات تو ریکارڈ پر آچکی ہے۔ یورپ یا مغرب کا طریقہ یہی ہے کہ براہ راست ہدایات دینے کے بجائے ریکارڈ پر تو شبہات کا اظہار ہوتا ہے۔ تازہ قرارداد میں بھی وضاحت کرنے کو کہا گیا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم نے اچھے خادم کی طرح فرما دیا ہے کہ یورپی یونین کے تحفظات دور کریں گے۔ ارے اسے تو کہیں کہ تم کیا جانو عصمت انبیا کیا ہے۔ اس کا فیصلہ تم کرو گے یا ہم کریں گے۔ ان کے تحفظات دور کرنے کی بات کو دال میں کچھ کالا ہی کہا جا سکتا ہے۔