نیب افسران فراڈ کررہے ہیں ،اور چیئرمین خاموش ہیں،عدالت عظمیٰ

72

اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب میں موجود افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اور چیئرمین نیب خاموش ہیں،نیب نے دو ماہ کے کام کیلیے3سال لگا دیے،جان بوجھ کر نیب کے لوگوں نے گھپلا کیا تاکہ کیس خراب ہوجائے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے نیب افسران کی جانب سے ملزمان سے رشوت لینے پر دوبارہ انکوائری کے حکم کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت کی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب تو سپریم کورٹ کے سابق جج رہے ہیں، وہ بغیر انکوائری کسی ملازم کو کیسے فارغ کرسکتے ہیں۔ ڈپٹی پراسیکوٹر نیب عمران الحق نے موقف اختیار کیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فاخر شیخ اور ترویش کے خلاف انکوائری کی گئی، سندھ ہائی کورٹ نے 3 ماہ میں دوبارہ انکوائری مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔دوران سماعت چیف جسٹس نیب کے رویے پر برہم ہوگئے، انہوں نے ریمارکس دیے کہ نیب ایسے لوگوں کو تنخواہ اور غلط کام کرنے کا موقع بھی دیتا ہے، نیب میں موجود ایسے افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اور چیئرمین نیب خاموش ہیں۔ نیب افسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں آتا ، نیب کا ادارہ کر کیا رہا ہے ، تماشا بنایا ہوا ہے، نیب نے 2 ماہ کے کام کیلیے 3 سال لگا دیے،2018 سے معاملہ چل رہا ہے ابھی تک نیب سے انکوائری ہی مکمل نہیں ہو سکی ، اس کیس میں تین سال گزارنے کے باوجود ابھی تک نیب نے کچھ نہیں کیا،جان بوجھ کر نیب کے لوگوں نے گھپلا کیا تاکہ کیس خراب ہوجائے۔ عدالتی آبزرویشنز کے بعد نیب نے اپنے طور پر انکوائری مکمل کرنے کے لیے کیس واپس لے لیا۔