مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے قرآن و سنت پر عمل یقینی بنانا ہوگا

81

لاہور (رپورٹ: حامد ریاض ڈوگر) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا یہ جملہ کہ ’’قرآن و سنت کی دعوت لیکر اُٹھو اور پوری دنیا پر چھا جائو‘‘ دراصل رسول اکرمؐکے پیغام ہی سے ماخوذ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کا راستہ ایک ہی ہے کہ قرآن و سنت پر عمل یقینی بنایا جائے‘ مسلمان قرآن و سنت کے ابلاغ کے ذریعے آج بھی پوری دنیا پر غلبہ پا سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر محمد جاوید قصوری، ادارۂ معارف اسلامی لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد انور گوندل اور گورنمنٹ کالج ٹائون شپ لاہور کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ اور متعدد اسلامی و تاریخی کتب کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر اختر عزمی نے روزنامہ ’’جسارت‘‘ کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا یہ جملہ کہ ’’قرآن و سنت کی دعوت لے کر اٹھو اور پوری پر چھا جائو‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ محمد جاوید قصوری نے کہا کہ سید مودودیؒ کا یہ مشہور جملہ در اصل اس عظیم پیغام سے ماخوذ ہے جو رسول اکرمؐ نے کہ کوہ صفا پر کھڑے ہو کر دیا تھا کہ’’اے لوگو! لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لو تو فلاح پا جائو گے‘ اس کلمے کو قبول کرنے سے تم پورے عرب پر حکمرانی کرو گے اور سارا عجم تمہارے سامنے جھک جائے گا۔ اس جملے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین دنیا پر غالب ہو کر رہنے کے لیے ہے‘ یہ پیغام حق کسی ایک گروہ یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے‘ اس پیغام میں بنی نوع انسان کی فلاح ہے‘ الحاد، لبرلزم، سیکولرزم یا بے دینی کے نظریات قرآن و سنت کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے‘ ان کی حیثیت خس و خاشاک سے زیادہ نہیں‘ تاریخ میں مختلف ادوار میں اصلاح اور تجدید دین کی تحریک کئی شخصیات نے چلائی ہیں لیکن ان میں جو مقامسید مودودیؒ کو حاصل ہوا وہ کسی کو نہیں ہوا‘ انہوں نے دعوت دین کے ساتھ اسلامی نظام کے غلبے اور اس کے عملی نفاذ کے لیے ایک عظیم تحریک بھی برپا کی‘ جس نے اس پیغام کو پوری دنیا میں پہنچایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس پیغام کی قبولیت کا ثبوت ہے کہ اس نے کروڑوں مسلمانوں کے قلوب بدلے۔ محمد انور گوندل نے کہا کہ میں سید مودودی کے جملے سے یہی سمجھتا ہوں کہ امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کا ایک ہی راستہ ہے کہ قرآن و سنت کی دعوت کو سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے‘ یہی وہ لائحہ عمل ہے جسے اپنا کر صحابہ کرامؓ پوری دنیا پر چھا گئے تھے‘ آج بھی یہی راستہ ہے کہ جس کے ذریعے مسلمان دنیا بھر میں غلبہ حاصل کر سکتے ہیں‘ اگر ہم قرآن و سنت کی دعوت کو مضبوطی سے تھام کر آگے بڑھیں تو دوبارہ غلبہ اسلام کی منزل ہمارا مقدر بن سکتی ہے‘ ہم اگر قرآن و سنت پر عمل کا راستہ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور سرخرو کرے گا‘ اگر کسی وجہ سے اس دنیا میں ہم ظاہری کامیابی حاصل نہ کرسکیں تو کیا ہوگا کچھ نہیں کیونکہ اگلے جہاں میں ہمارے لیے اجر اور کامیابی یقینی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اختر عزمی نے کہا کہ سید موودوی کے جملے کا واضح مفہوم یہی ہے کہ قرآن و سنت ہی بنیادی چیز ہے‘ اس کا ابلاغ ہو جائے تو دین کی دعوت لے کر اٹھنے والے پوری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں‘ قرآن حکیم کی دعوت میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ یہ مادی سرمائے کے بغیر بھی ہر جگہ قبولیت پاتی ہے‘ شیخ الہند مولانا محمود الحسن عظیم شخصیت اور صاحب کردار عالم دین تھے‘ قلعہ انڈیمان میں20 سال قید کی اذیت برداشت کرنے کے بعد رہا ہوئے تو انہوں نے بھی یہی پیغام دیا کہ میں طویل غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے زوال کے2 اہم ترین اسباب ہیں‘ ایک فرقہ پرستی اور دوسرا قرآن سے دوری‘ آج بھی جو لوگ دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ان کو اسی بنیاد پر کام کو اٹھانا ہو گا کہ قرآن و حدیث کی دعوت کو علما تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عوام تک پہنچایا جائے‘ لوگوں میں فہم قرآن عام کر کے ہی ان کی ذہنی و فکری اور عملی تربیت ممکن ہے‘ مولانا مودودیؒ نے اپنے کارکنوں کو یہی پیغام دیا اور ہدایت کی ہے کہ فہم قرآن و حدیث کو عام کرنے کے کام کو اپنی جدوجہد کا مرکز و محور بنائیں ‘صرف یہی راستہ ہے جو انہیں کامیابی کی منزل سے ہم کنار کر سکتا ہے۔