حیدرآباد ،پولیس سرپرستی میں منشیات کا کاروبار کھلے عام جاری

15

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف ضلع حیدرآباد کے صدر عمران قریشی نے کہا ہے کہ حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں پولیس کی سرپرستی میں کھلے عام منشیات ، مین پوری، گٹکا فروخت کی جارہی ہے جن سے پولیس ہفتے کی بنیاد پر ہزاروں روپے ہفتہ وصول کرتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت مین پوری، گٹکے کے کاروبار سے پولیس کی چاندی بنی ہوئی ہے لیکن اس کے استعمال سے نوجوان اپنی زندگیاں برباد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عدالتیں جب بھی کوئی سخت فیصلہ لیتی ہیں تو پولیس کی بھتے کی مانگ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ عدالت کے فیصلوں کو جواز بناکر پولیس منہ مانگی رشوت لے کر اس کاروبار کی سرپرستی شروع کردیتی ہے۔ آج ایک ایک گلی، بازار، چوراہوں میں مین پوری ، گٹکا فروخت ہورہا ہے۔ خود پولیس کے بیشتر اہلکار سارا دن مین پوری اور گٹکا کھاتے نظر آتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب حکومت کے اہم ذمے داران رشوت اور لوٹ مار کی بنیاد پر معاملات چلارہے ہوں تو پھر اس کے اثرات نیچے تک آتے ہیں اور عام اہلکار بھی لوٹ مار کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے حیدرآباد کے مخصوص اراکین اسمبلی کے حوالے کردیا ہے جو ہر محکمے سے من مانی رشوت لے کر اپنے اثرورسوخ کی بنیاد پر وہاں کے معاملات چلارہے ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث کاروبار بند کرنے کے احکامات ہیں لیکن کئی مقامات پر ہوٹلیں، دکانیں کھلے عام چل رہی ہیں جن سے پولیس نے اپنے معاملات طے کیے ہوئے ہیں۔