بھارت میں آکسیجن فراہم کرنے والوں پر مقدمہ

139
بھارت: سانس میں تنگی کے شکار مریضوں کو سڑکوں پر آکسیجن فراہم کی جارہی ہے

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے جونپور ضلع میں انتظامیہ نے اس نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جو سرکاری اسپتال کے باہر آکسیجن کی کمی کے شکار مریضوں کو اپنی ایمبولینس سے آکسیجن دے رہا تھا۔ مقدمے کے درج کیے جانے کو بہت سے لوگ مددگاروں کو خاموش کرنے کی کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے بے تکا موقف اختیار کیا ہے کہ یہ نوجوان اسپتال کے باہر انتشار کا باعث بنا تھا اور اس کی وجہ سے طبی عملے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جونپور کے ڈی ایم منیش ورما نے کہا کہ ابھی تک نوجوان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اے ڈی ایم کی ٹیم اس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ انتظامیہ کسی کو غیر ضروری سزا دینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ جونپور کوتوالی میں وکی اگرہری نامی نوجوان کے خلاف وبائی ایکٹ کی دفعہ 3 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 188 اور 269 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ جونپور کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ وکی اگرہری کا کہنا ہے کہ میں مریضوں کو بغیر آکسیجن کے تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنی ایمبولینس سے آکسیجن سلنڈر نکال کر انہیں آکسیجن دے دی۔ سی ایم او نے اپنی شکایت میں کہا کہ وکی اور دیگر افراد پرچہ کاؤنٹر کے قریب سانس کی تکلیف والے مریضوں کو نجی سلنڈروں سے آکسیجن دے رہے تھے اور وڈیو بنا رہے تھے۔ وہ وہاں موجود لوگوں کو بتا رہے تھے کہ ہم مریضوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کہ انتظامیہ کی جانب سے انتظام نہیں ہے۔ مدد کرنے والے نوجوان پر مقدمہ دائر کرنے سے انتظامیہ کا منفی اثر قائم ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی ریاست کرناٹک میں چماراج نگر اسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث کورونا کے 24 مریض جاں بحق ہوگئے۔ اسی طرح ایک دن میں کورونا کے نئے 3 لاکھ 93 ہزار کیس سامنے آئے، جس کے بعد کورونا سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 95 لاکھ ہوگئی ہے۔ بھارت میں یومیہ کورونا کیس 3 لاکھ سے زائد ہونے کا یہ مسلسل بارہواں روز ہے، جب کہ 4 روز سے یومیہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 3 ہزار سے زیادہ ہے۔