مغربی کنارے میں فائرنگ ، 3 یہودی شدید زخمی

131
مغربی کنارہ: قابض صہیونی فوج فائرنگ کے مقام کو بند کرکے تحقیقات کررہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں فائرنگ سے 3یہودی آباد کار شدید زخمی ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعہ اسرائیلی فوج کی چوکی پر پیش آیا۔ صہیونی حکام نے 2زخمیوں کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے تیسرے آبادکارن کے معمولی زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کار میں سوار تھے،جس کے بعد وہ وہاں سے باآسانی فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر وسیع پیمانے پر چھاپا مارکارروائیاں شروع کردیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تابواح چو پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ حملہ آور جلد گرفتار کرلیے جائیں گے۔دوسری جانب اسرائیلی فوجیوں نے بیت لحم شہر میں ایک 60 سالہ فلسطینی خاتون رحاب محمد موسیٰ خلف زعول کو گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں شہید ہوگئی۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے حسب روایت دعویٰ کیا گیا کہ خاتون چاقو سے حملے کی نیت سے اہل کاروں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شہید ہونے والی خاتون کا تعلق بیت لحم کے نواحی علاقے نحالین سے تھا۔ فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد خاتون کو شعاری تزیدک اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئی۔ اس واقعے کی وڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی، جس میں نہتی خاتون کے ہاتھ میں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ قابض فوج کے ایما پر عبرانی میڈیا نے بھی فلسطینی خاتون کو مسلح قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا اس کے قبضے سے ایک چاقو برآمد کیا گیا ہے، تاہم اسرائیلی فوج اور عبرانی میڈیا کے اس دعوے کی تصدیق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ ادھر اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینی طالبہ شروق البدن کو مسلسل 8 ماہ قید میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔