انصاف اور قانون کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے…!

389

اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت پاکستان میں جو نظام رائج ہے اس میں مسلسل کرپشن جیت رہی ہے اور قانون ہار رہا ہے۔ یہ نظام اپنا رنگ دکھا رہا ہے، پورا معاشرہ اسی نظام کے تابع ہے، پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے، قومی خزانہ لوٹا گیا، کسی نے کیا کرلیا، بیورو کریسی میں اعلیٰ عہدوں پر من پسند افسران کو میرٹ سے ہٹ کر تعینات کیا جاتا ہے، ان افسران کے ’’کلے‘‘ خود حکمرانوں نے مضبوط بنائے تو پھر تبدیلی کس طرح آئے گی؟ ہر کسی کا ’’کلہ‘‘ مضبوط ہے۔ پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں کام تو کررہی ہیں مگر قانون سازی نہیں ہورہی، کرپشن کے خلاف مقدمات تو چل رہے ہیں، تحقیقات اور مقدمات کی سماعت جاری ہے لیکن نتیجہ صفر، وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ کون سا ریکارڈ ہے جو محفوظ ہے، تمام ریکارڈ تو جل چکا، شواہد اور ثبوت کہاں سے لائے جائیں؟ جاتی امرا اور بلاول ہائوس اپنی پوری سج دھج سے موجود ہیں، قوم ان کے مکینوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتی ہے۔ ’’زرداری‘‘ کو ’’بھٹو‘‘ بنادیا جاتا ہے، مریم نواز کو قوم کی بیٹی کہا جاتا ہے، قوم ان پر صدقے واری جاتی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ برطانیہ میں انہوں نے اثاثے کیسے بنائے؟ کیا مجال ہے ایف آئی اے اور ایف بی آر کی۔ صدر مملکت کا بھیجا گیا ریفرنس اپنی موت آپ مر گیا، وہ کیا منظر ہوگا کہ جب صدر عارف علوی ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف لیں گے۔
تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کو عدالت سزا بھی سناتی ہے اور پھر سزا یافتہ مجرم کو بیرون ملک جانے کی اجازت بھی دے دی جاتی ہے۔ لندن میں بیٹھ کر قومی اداروں کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے، پاکستان میں کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں، قومی دولت لوٹ کر باہر لے جائی گئی، کسی نے بھی یہ دولت واپس لانے کے کوئی عملی اقدامات نہ کیے بلکہ خود ان کو واپس پاکستان لانے میں بھی ناکامی ہوئی، جس پیمانے کی کرپشن آصف علی زرداری نے کی انہیں جس نام سے پکارا جاتا تھا جو کچھ مغربی میڈیا میں آتا رہا یہ سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے، پھر بھی پاکستان میں موجودہ نظام کے تحت آصف علی زرداری ’’زیرک سیاستدان‘‘ ٹھیرے۔ یقین جانیے کہ موجودہ نظام اگر اسی طرح برقرار رہتا ہے تو پھر آئندہ آنے والے دنوں میں ہائوس آف شریف اور ہائوس آف زرداری ایک بار پھر اقتدار میں آجائیں گے ان کی اولادیں حکمرانی کریں گی۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو سالانہ 30 ہزار پائونڈ بطور الائونس ملتے ہیں جو کہ وہ اپنی سرکاری رہائش گاہ ڈائوننگ اسٹریٹ کے اپارٹمنٹ کی تزئین و آرائش پر خرچ کرسکتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے دنوں میں برطانوی وزیراعظم نے اپنے مقررہ الائونس سے زیادہ برطانوی پائونڈ خرچ کردیے، اس پر برطانوی پارلیمنٹ میں اُن سے اپوزیشن لیڈر نے خرچ کیے گئے ایک ایک پائونڈ کا حساب مانگ لیا ہے جس پر وزیراعظم نے ایک ایک پائی کا حساب دے دیا ہے، لیکن پھر بھی برطانوی ادارے مکمل تحقیقات کررہے ہیں کہ مقررہ الائونس سے زیادہ وزیراعظم نے خرچ کیوں کیا جب کہ وزیراعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر تزئین و آرائش کا جو کام کروایا وہ قرض لے کر کروایا جس کی پوری تفصیل انہوں نے پارلیمنٹ میں پیش کردی۔ جب کہ تین مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم رہنے والا لندن کے انتہائی مہنگے علاقے پارک لین میں کروڑوں پائونڈ مالیت کے اپارٹمنٹ میں رہائش پزیر ہے، ساتھ ہی ان کے صاحبزادے اپنے مہنگے ترین آفس میں جو کہ ہائیڈ پارک کے سامنے واقع ہے اپنا بزنس چلا رہے ہیں۔ شریف خاندان کے اثاثے اور جائدادیں جو برطانیہ میں ہیں ان کا کوئی شمار ہی نہیں ہے۔ یہ ہی صورت حال آصف علی زرداری اور دیگر سیاستدانوں، بیورو کریٹس اور عوامی نمائندوں کی بھی ہے، پاکستان سے باہر جائدادیں اور اثاثے کس طرح بنائے گئے؟ پاکستان سے باہر دولت کس طرح منتقل ہوتی رہی؟ حالاں کہ برطانیہ میں منی لانڈرنگ کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں لیکن پھر بھی پاکستان سے مختلف ذرائع استعمال کرکے سرمایہ برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں قومی ادارے پوری طرح ملوث ہیں۔
یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان میں دولت کی تقسیم موجودہ نظام کے تحت چند خاندانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اقتدار اور قومی دولت کے علاوہ قومی وسائل پر بھی ان ہی خاندانوں کا قبضہ ہے یعنی ہر شعبہ پر ایک مافیا اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ شوگر مافیا سے لے کر صحت، تعلیم، ہر طرح کی انڈسٹری اور پھر صحافت تک ہر جگہ مافیا اپنے قدم جمائے ہوئے ہے۔ سیاست، عدل و انصاف، قومی ادارے ایک مافیا کی شکل میں اپنا اعتماد کھو چکے ہیں، جن ملکوں کو ناکام ریاست کا درجہ دیا جاتا ہے ان ممالک کی معیشت اور سیاست تو تباہ کی ہی جاتی ہے جس کے لیے ملک کے اندر مافیاز کو فروغ دیا جاتا ہے۔ قانون کی حکمرانی ختم کرکے امن وامان کا مسئلہ پیدا کیا جاتا ہے۔ خفیہ ذرائع سے ملک کے اندر سرمایہ تقسیم کیا جاتا ہے، ترقیاتی منصوبوں کے نام پر غیر ملکی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں، حکومت کی اعلیٰ شخصیات کو کمیشن لینے کے مرض میں مبتلا کرکے کرپٹ بنایا جاتا ہے، عدالتیں امیر خاندانوں کو ریلیف فراہم کرتی ہیں، عام لوگ حصول انصاف کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں، اس طرح معاشرے میں بدامنی، بداعتمادی اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ معاشرے کو تباہ کردیتا ہے۔
جمہوریت کے نام پر انتخابات تو ہوتے ہیں عام آدمی انتخاب لڑنے کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا، صرف اور صرف امیر خاندان ہی اقتدار کا حصہ بنتے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی کرکے نتائج بدل دیے جاتے ہیں۔ ان تمام عوامل کے لیے عالمی بینک کے بھاری قرضے اور USAID اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ ماضی میں یہ سب کچھ عراق، مصر، لیبیا، شام، یمن میں ہوچکا ہے۔ ان ممالک کے قومی وسائل تباہ کرکے عالمی طاقتوں نے اپنا قبضہ ان کی دولت پر جما رکھا ہے اور ان ممالک میں خانہ جنگی کی حالت پیدا کرکے عالمی طاقتیں اپنی مداخلت کا جواز پیدا کرتی ہیں۔ پاکستان کے اندر ایک منظم عالمی سازش کے تحت سیاسی استحکام کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت بھی تباہ کردی گئی ہے جب کہ ماضی کے حکمرانوں کو قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک اپنے اثاثے اور جائدادیں بنانے میں خفیہ طور پر بھرپور معاونت بھی فراہم کی گئی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ حکمران ہر لحاظ سے کرپٹ ہیں، عدل و انصاف کے اداروں کی جو موجودہ صورت حال ہے یہ خطرے کی گھنٹی ہے، صدر مملکت، وزیراعظم، آرمی چیف کے علاوہ حکومت پاکستان کے اعلیٰ افسران JOHN PERKINS کی کتاب CONFESSIONS OF AN ECONOMIC HIT MAN ضرور پڑھ لیں اور پھر پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر قومی مفاد میں مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں تا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو۔ کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ صدر پاکستان اور وزیراعظم اپنے اختیارات بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرہ اختیار میں رہ کر قومی اداروں اور نظام میں جنگی بنیادوں پر انقلابی تبدیلیاں لائیں۔